تھر میں پانچ دنوں میں 15 بچوں کی ہلاکت

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں ایک بار پھر نومولود بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور رواں سال کے ابتدائی چھ روز کے دوران 15 کمسن بچے ہلاک چکے ہیں۔
ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
رؤف راھموں کا 13 ماہ کابیٹا عقیل احمد بھی ہلاک ہونے والے بچوں میں شامل ہے۔
خیال رہے کہ ڈاکٹروں نے رؤف راھموں کے بیٹے عقیل احمد میں نمونیا کی تشخیص کی تھی۔
رؤف راہموں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے علاقے کھیمی جو پار کی ڈسپینسری میں بچے کو لیکر گئے تھے جہاں ڈاکٹر موجود تھا لیکن دوائی نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رؤف بچے کو عمرکوٹ او پھر وہاں سے پھر میر پور خاص لے گئے جہاں نجی ہپستالوں میں ڈاکٹر کو دکھایا لیکن تب تک بچے کی طبعیت مزید بگڑ چکی تھی اور بالآخر وہ فوت ہوگیا۔
عقیل احمد کے علاج پر رؤف راہموں کے 50,000 ہزار روپے اخراجات آئے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تھر پارکر ارجن کمار نے 15 بچوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں ایک ماہ سے کم ہیں اور یہ پیدائشی امراض کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔
تحصیل ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر 250 بچوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہیں اور جن بچوں کو مزید علاج کی ضرورت ہوتی ہے تو اُنھیں ضلعی ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں بچوں کے لیے نرسری قائم ہے جس میں بیک وقت 25 بچوں کو رکھا جاتا ہے۔
گذشتہ برس تھر میں قحط سالی اور بیماریوں سے بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے تھر کے لیے خصوصی پیکج، ہسپتالوں کی بہتری اور اُن کے بجٹ میں اضافہ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اِن میں سے اکثر پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ارجن کمار کے مطابق چھاچھرو ہسپتال کو جدید بنانے کے کاغذات وزیراعلیٰ کے پاس اُن کے دستخط کے منتظر ہیں۔
ان کے مطابق ’تھر میں شفاخانوں، ڈسپینسریوں، دیہی مراکز سمیت کل ملا کر 250 کے قریب ہسپتال ہیں جن میں سے تقریباً 180 کا انتظام محکمۂ صحت کے پاس ہے اور اِن میں سے صرف 124 فعال ہیں۔ علاقے میں جو فرسٹ ایڈ والے یونٹ موجود ہیں، جن میں کھانسی نزلہ زکام وغیرہ کا علاج ہونا ہوتا ہے، وہاں ڈاکٹرز ہی موجود نہیں ہیں اور اِن کو ڈسپینسر چلا رہے ہیں۔‘
اِس سال بھی سب سے زیادہ ہلاکتیں مٹھی کے سول ہسپتال میں رپورٹ ہوئی ہیں جہاں بدھ کی صبح تک ہلاکتوں کا سلسلہ جاری تھا۔
سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اقبال بھرگڑی کہتے ہیں کہ دیگر ہسپتالوں میں نرسری اور دیگر بہتر سہولیات موجود نہیں ہیں، دور دراز علاقوں سے جب تک بچے یہاں لائے جاتے ہیں اُن کی حالت کافی بگڑ چکی ہوتی ہے۔ اِس وقت جو بچے لائے جا رہے ہیں اُن کی عمر ایک سے دس دن تک کی ہے اور یہ پیدائشی بیماریوں کا شکار ہیں جن میں انفیکشن، قبل از وقت پیدائش، سانس کی تکلیف اور وزن میں کمی کا شکار بچے شامل ہیں۔

ڈاکٹر اقبال کے مطابق سول ہسپتال میں 52 ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں اور عملہ بھی مکمل ہے۔ ہسپتال میں 24 گھنٹے ڈاکٹرز اور عملہ دونوں موجود رہتا ہے۔ اس کے برعکس بچوں کی والدین کی یہ شکایت ہے کہ رات کے وقت ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ارجن کمار نے نومولود بچوں کی اموات کے وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کم عمری کی شادیاں، پیدائش کے دوران وقفے میں کمی، بچوں کی گھروں میں پیدائش اور ماؤں کی بہتر غذا میں کمی نومولود بچوں کی اموات کا بڑا سبب ہیں۔
واضح رہے کہ شہر سے دور جن پسماندہ علاقوں میں بچوں کی حالت تشویشناک ہوتی ہے تو اُن کو سول ہسپتال مٹھی یا دیگر شہروں کے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ بچوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے عمل میں کئی گھنٹوں لگ جاتے ہیں اس دوران یہ بچے کبھی راستے میں اور کبھی ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیتے ہیں۔







