ڈاکٹر عاصم 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں قومی احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم کو مزید 14 روز کے لیے احتساب بیورو کے حوالے کردیا ہے۔
نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ سنہ 2008 میں سٹاک ایسکچینج میں مصنوعی بحران پیدا کرکے بھی فراڈ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عاصم حسین کو نیب عدالت کے انتظامی جج سعد قریشی کے روبرو منگل کو پیش کیا گیا۔
نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے 20 بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور مالیاتی ادروں کے کھاتوں کے بارے میں تفتیش کرنی ہے۔
نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ دوران تفتیش سٹاک ایکسچینج کا بھی سکینڈل سامنے آیا ہے۔
ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2008 اور 2009 میں سٹاک ایکسچینج میں مصنوعی بحران پیدا کر کے جہانگیر صدیقی کمپنی کو 170 ملین ڈالر کا فائدہ پہنچایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیب افسر نے ملزم سے تفتیش کے لیے ریمانڈ میں اضافے کی گذارش کی جسے عدالت نے منظورکرتے ہوئے ملزم کو 18 جنوری تک نیب کے حوالے کر دیا۔
اس سے پہلے ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے موکل کو جیل بھیجنے کی درخواست کی۔
ڈاکٹر عاصم کے وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکل کو پہلے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسی میں جوائنٹ انٹروگیشن کی گئی تھی اب اس تحقیقات کو نیب استعمال کر رہی ہے۔
ڈاکٹر عاصم کے وکیل عامر رضا نقوی اور انور منصور کا کہنا تھا نیب قانون کے مطابق کسی بھی مشتبہ ملزم کو اس صورت میں گرفتار کیا جاسکتا ہے جب ٹھوس مواد موجود ہوں لیکن اس کے برعکس ڈاکٹر عاصم کو پہلے گرفتار کیا گیا ہے اور بعد میں ثبوت تلاش کیا جا رہا ہے۔
وکلا کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملزم کو اپنے ہی خلاف گواہی دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب عدالت میں ماہر نفسیات ڈاکٹر ہارون احمد کی جانب سے ڈاکٹر عاصم حسین کے نفسیاتی تجزیے کی رپورٹ پیش کی گئی۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل قید و بند اور تشدد کی وجہ سے ڈاکٹر عاصم حسین ذہنی دباؤ میں ہیں اور ان میں نا امیدی کے احساسات جنم لے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود کشی بھی کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر ہارون نے تجویز دی ہے کہ ڈاکٹر عاصم کو اس ماحول سے نکال کر کسی ہپستال میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے جہاں ان کی سائیکو تھراپی کی جا سکے۔







