’علیحدگی پسندوں سے بات چیت کا آغاز سب بڑی کامیابی ہے‘

- مصنف, اطہر کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی وزارتِ اعلی کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کے ناراض بلوچ قوم پرستوں سے کوئی رابطے نہیں ہوئے ہیں لیکن انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئے وزیر اعلیٰ اس عمل کو جاری رکھیں گے۔
<link type="page"><caption> ثنا اللہ زہری نے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151224_balochistan_new_cm_election_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بلوچ علیحدگی پسندوں سے شروع ہونے والی بات چیت یا مصالحتی عمل کو انھوں نے اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ وہ نئے وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری سے اس سلسلے میں مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ مصالحت کے عمل کے ساتھ صوبے میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری بھی ان کی حکومت کا ایک نمایاں کارنامہ ہے۔ ڈاکٹر مالک کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے دوران کیے جانے والے اقدامات کی ہی بنا پر ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جہاں بات چیت کی فضا بنی اور یہ سلسلہ شروع ہوا۔
ناراض بلوچ سرداروں سے بات چیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا یک طرفہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس میں سب شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ بات چیت شروع کرنے سے قبل کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی تھی اور اس میں سیاسی اور عسکری قیادت بھی موجود تھی۔
بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور سماجی شعبوں کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبے میں اداروں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیم کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے سابق وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ نئے سکول کھولنے سے زیادہ پہلے سے موجود سکولوں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور غائب سٹاف کی موجودگی کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح صحت کے مراکز کی حالت بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مالک کا کہنا تھا کہ معاشی شعبے میں ان کے بہت سے اہداف ادھورے رہ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی شدید خواہش ہے کہ ان اہداف کو حاصل کیا جائے۔
صوبائی حکومت کی تبدیلی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک معاہدے کے تحت ہوا ہے جس کی پاسداری کرکے وہ بہت مطمئن ہیں، اگر ان کی جماعت اس معاہدے سے رو گردانی کرتی تو یہ سیاسی طور ان کے لیے اور ان کی جماعت کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث ہوتا۔







