کیچ، کوہلو میں سیاسی رہنماؤں کے مکانات پر نامعلوم افراد کا حملہ

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے مکان کے اندر موجود افراد کو باہر نکالا اور اس کے بعد گھر کو آگ لگا دی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے مکان کے اندر موجود افراد کو باہر نکالا اور اس کے بعد گھر کو آگ لگا دی
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی دو رہنماؤں کے مکان پر نامعوم افراد نے حملہ کیا ہے۔

سوموار کو یہ حملے صوبے کے پسماندہ ضلعے کیچ اور کوہلو میں ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنمااکبر آسکانی کے مکان کو ضلع کیچ میں نامعلوم افراد نے نظر نذر آتش کر دیا۔ اکبر آسکانی کے گھر کو نذر آتش کرنے کا واقعہ ضلع کی تحصیل مند کے علاقے بلوجتجو میں پیش آیا۔

حکام نے بتایا کہ حملے کے وقت اکبر آسکانی خود گھر پر موجود نہیں تھے۔ اکبر آسکانی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ 70 کے قریب مسلح افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے مکان کے اندر موجود افراد کو باہر نکالا اور اس کے بعد گھر کو آگ لگا دی۔

انھوں نے بتایا کہ مکان میں موجود سامان کے ساتھ موجود دوگاڑیاں بھی جل کر راکھ بن گئی ہیں۔ سیاسی رہنما آکبر آسکانی کا کہنا تھا کہ حملہ آور وہی لوگ ہیں جو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔

اکبر آسکانی بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 50 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے بلوچستان کی عوام کو دھمکی دی ہے کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔

چند روز قبل اس علاقے میں انتخابی مہم چلانے والے پانچ افراد کو اغوا بھی کیا گیا تھا جن کی تاحال رہائی عمل میں نہیں آئی۔ ان مغویوں کا تعلق نیشنل پارٹی اور بی این پی عوامی سے ہے۔

ادھر ضلع کوہلو میں بھی ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی رہنما کے گھر کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔گذشتہ شب ہونے والے اس بم حملے میں قبائلی رہنما عبد اللہ سالارانی سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں ۔