اسلام آباد میں افغانستان پر سہ فریقی کانفرنس کا انعقاد

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے دارالحکومت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر افغانستان، امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان علیحدہ مذاکرات میں افغانستان میں قیام امن اور اقتصادی ترقی کے لیے آئندہ برس دو مزید بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرانے کا فیصلہ کیاگیا۔
پہلی کانفرنس یورپی یونین چاراور پانچ اکتوبر 2016 کو برسلز میں کرآئے گا۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر افغانستان، یورپی یونین اور امریکہ کی ایک علیحدہ سہ فریقی کانفرنس بھی ہوئی جس میں افغانستان کی نمائندگی وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کی جبکہ امریکہ کی طرف سے نائب وزیر خارجہ اینٹونی جے بلنکن اور یورپی یونین کے بیرونی ایکشن سروس کی نائب سیکرٹری جنرل ہیلگا شمد نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔
افغانستان، امریکہ اور یورپی یونین نے کانفرنس کے بعد اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ انھوں نے اس کانفرنس میں دو دیگر کانفرنسوں کے بارے میں گفتگو کی جو خطے کی سلامتی اور اقتصادی ترقی پر مبنی ہونگی۔
یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کو وہ ان کانفرنسوں کی میزبانی برسلز اور وارسا میں کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ، یورپی یونین اور افغانستان نے یہ بھی کہا کہ برسلز کانفرنس کی تیاریوں میں انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تینوں اطراف نے تسلیم کیا کہ افغانستان کی حمایت میں برسلز اور وارسا کی کانفرنسیں ملک کے لیے اس وقت اہم ہیں جب وہ اپنے اصلاحات اور ایجنڈا میں پیش قدمی کرنے جا رہا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان اپنی اصلاحات میں پیش رفت کرتا ہے تو یورپی یونین برسلز اور وارسا کی کانفرنسوں میں ملک کو غیر معمولی حفاظتی نظام اور ترقیاتی امداد فراہم کرنے کے وعدے کرے گا۔
تمام ممالک کے وفود نے کہا ہے کہ ان دونوں کانفرنسوں کو منعقد کرنے کے لیے ایک مضبوط افغان قیادت کی منصوبہ بندی ہونا بہت اہم ہے۔
انھوں نے کانفرنسوں کے سلسلے میں تمام بین الاقوامی شراکت داروں سے درخواست کی کہ وہ افغانستان کو مضبوط حمایت فراہم کرنے کا عہد کریں۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مقصد خطے کے شراکت داروں کو ایک دوسرے سے مل کرعام چیلنجز سے نمٹنے اور باہم مفید کے حل تک پہنچنے کے مواقع دینا ہے۔







