’ووٹ بینک پر اثرانداز ہونے کے لیے الیکشن کے دن مقدمہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے دن ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ قائم کیا جانا عوام میں مایوسی پھیلا کر ایم کیوایم کے ووٹ بینک پر اثر ڈالنے کی کوشش تھی۔
کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں واضح برتری حاصل کرنے کے بعد منعقدہ جشن کی تقریب میں لندن سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ظلم و تشدد سے ایم کیو ایم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ مذکورہ مقدمے میں نہ صرف انھیں بلکہ ان کے بھانجے افتخار حسین اور محمد انور کو بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔’اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے ہتھکنڈے سے میں ڈر جاؤں گا تو انھیں معلوم ہوناچاہیے کہ وہ الطاف حسین کی جان تو لے سکتے ہیں لیکن اسے خوفزدہ نہیں کر سکتے۔‘
الطاف حسین نے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار میں اگر واقعی اخلاقی جرات ہے تو اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے جن شخصیات کے خلاف کارروائی کے لیے حکم دیا ہے، ان کے خلاف کارروائی کر کے دکھائیں، بینظیر بھٹو کے قاتلوں کوگرفتار کر کے دکھائیں، سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل کو سزا دلوائیں، منہاج القرآن کے مرکز میں بےگناہ لوگوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر کے دکھائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
الطاف حسین کی پاکستان کے میڈیا میں تقریر اور تصویر نشر کرنے اور اشاعت پر عدالت نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
اپنے خطاب میں الطاف حسین نے پاکستان کی عسکری قیادت کو ایک بار پھر مفاہمت کی پیشکش کی اور کہا کہ ایم کیو ایم ایک محبِ وطن جماعت ہے اور ارباب اختیار اور اقتدار نے اسے سمجھنے میں بہت غلطی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم سے نفرت چھوڑیں اورہاتھ ملائیں تاکہ ہم مل کر ملک کی خدمت کرسکیں۔ ارباب اختیار اور اقتدار نے ایم کیوایم کو سمجھنے میں بہت غلطی کی ہے ۔ وہ غرور اورگھمنڈ ترک کر کے ایم کیوایم کی حقیقت کو تسلیم کریں۔‘
انھوں نے گذشتہ روز جیل میں ایم کیو ایم کے کارکن ندیم احمد کی موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماورائے عدالت قتل اور جبروستم کا یہ سلسلہ نہیں رکا تو پھر احتجاج کا ایسا سلسلہ جاری ہوگا جسے کوئی نہیں روک سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے کارکنان سے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ’آج کے بعد میرے ساتھ کیا ہوتا ہے لیکن اگر ’مہاجر‘ کی بنیاد پر کوئی آپ کو تباہ کرنے کا عمل کرے تو ایک وقت تک تو صبر و تحمل سے کام لینا اور برداشت کرنا اور جب صبر کی انتہا ہوجائے تو پھر عزت کی زندگی کے لیے کسی بھی قربانی سے گریز مت کرنا۔‘
الطاف حسین نے دعویٰ کیا کہ ضرب عضب کامیاب نہیں ہوا ہے کیونکہ جن عناصر کے خلاف یہ کارروائی شروع ہوئی تھی وہ سب کے سب افغانستان چلے گئے۔
’کراچی کے ایک ایک گھر پر چھاپہ مارا جاتا ہے لیکن جنوبی پنجاب جہاں طالبان، القاعدہ اور دیگر کالعدم تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں وہاں کبھی اس طرح چھاپہ نہیں مارا جاتا۔‘







