’افغانستان کی درخواست پر امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کریں گے‘

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ نہیں ہیں اور پاکستان نے افغانستان کے کہنے پر اُس کی مدد کی ہے: طارق فاطمی
،تصویر کا کیپشندونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ نہیں ہیں اور پاکستان نے افغانستان کے کہنے پر اُس کی مدد کی ہے: طارق فاطمی
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان ملک میں قیام امن کے لیے تعطل کے شکار مذاکرتی عمل کو دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے تو پاکستان مصالحتی عمل میں معاون کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی نے بتایا کہ پاکستان افغانستان میں حقیقی امن و استحکام کا خواہاں ہے اور آئندہ ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ انھی امور پر بات کی جائے گی۔

اس قبل اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت اجلاس میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے ایجنڈے پر بات کی گئی۔ اس اجلاس میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ، ڈی جی آئی ایس آئی، مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی شریک تھے۔

اس اجلاس میں ملک سلامتی اور خطے میں استحکام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

طارق فاطمی نے بتایا کہ اس کانفرنس کا اہم مقصد افغانستان میں امن قائم کرنا ہے اور اسی سلسلے میں خطے کے دیگر ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ آٹھ نومبر سے اسلام آباد میں شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں کا افتتاح پروگرام کے تحت افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نواز شریف نے کرنا ہے لیکن وہ افغان صدر کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کے لیے تصدیق کے منتظر ہے۔

پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیرس میں ماحولیاتی کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی تھی

پاکستان نے اس کانفرنس میں بھارت کو بھی مدعو کیا ہے لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھارتی حکام نے ہمیں وزیر خارجہ سشما سوراج کی آمد کے بارے باقاعدہ مطلع نہیں کیا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ’افغان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کے حوالے باقاعدہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔‘

معاونِ خصوصی طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی افغانستان میں طالبان سے مذاکرات میں معاون کا کردار ادا کیا ہے اور ہم اب بھی سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

گذشتہ کچھ ماہ میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد اس کانفرنس میں پاکستان کے موقف کے بارے میں طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ نہیں ہیں اور پاکستان نے افغانستان کے کہنے پر اُس کی مدد کی ہے۔‘

’افغانستان نے پاکستان سے مصالحتی عمل شروع کروانے کی درخواست کی تھی اور پاکستان افغانستان کی قیادت میں شروع ہونے والے مصالحتی عمل میں معاون کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔‘

افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے پہلے دو ادوار پاکستان میں ہوئے ہیں لیکن افغان طالبان کے رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبر آنے کے بعد سے افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا تھا۔