’بھارتی وزیر خارجہ اور افغان صدر کی آمد کی تصدیق ہونا باقی ہے‘

افغانستان میں قیامِ امن کے لیے دور روزہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس آٹھ دسمبر سے اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہے: ترجمان
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں قیامِ امن کے لیے دور روزہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس آٹھ دسمبر سے اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہے: ترجمان
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا افتتاح پروگرام کے تحت افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نواز شریف نے کرنا ہے لیکن وہ افغان صدر کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کے لیے تصدیق کے منتظر ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے دو روزہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس آٹھ دسمبر سے اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہے۔

اس کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی آمد متوقع ہے لیکن دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’کانفرنس میں شرکت کے بارے میں باقاعدہ مطلع نہیں کیا گیا ہے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مقصد افغانستان اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ہے تاکہ خطے میں دہشت گردی، منشیات کا خاتمہ ہو اور غربت ختم کیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں تاحال چین، تاجکستان، کرغزستان، ایران اور افغانستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کرنے کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں امن اور ایشیائی ممالک کے مایین تعاون کے بارے میں یہ پانچواں اجلاس ہے جو آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہو گا۔ اس سے قبل ایسی ہی ایک کانفرنس استنبول میں ہوئی تھی۔

ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ’افغان صدر کی پاکستان آمد پر تصدیق کے منتظر ہیں۔ اگر وہ یہاں آئیں گے تو اُن سے مذاکرات سمیت تمام مسائل پر بات ہو گی۔ پاکستان افغان مصالحتی عمل میں معاون کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔‘

بھارتی ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ وزیر خارجہ سمشا سوراج کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہ

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مقصد افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں مدد دینا ہے اور اس میں 29 ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع ہے۔

پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے وزارئے اعظم کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی تھی اور وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ ’بات چیت کے دروازے کھلے رہنے چاہییں۔‘

صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کا فائرنگ میں زخمی ہونے کے واقعے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ ’میڈیا کی رپورٹیں ہیں لیکن اس بارے میں مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔ طالبان نے بھی ملا اختر کے فائرنگ میں زخمی ہونے کی تردید کی ہے۔‘