بدین میں بلدیاتی انتخابات سے پہلے فوج تعینات

سندھ کے دوسرے اضلاع میں پولنگ سے ایک دن پہلے فوج کے دستے تعینات کیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسندھ کے دوسرے اضلاع میں پولنگ سے ایک دن پہلے فوج کے دستے تعینات کیے جائیں گے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان الیکشن کمیشن کی سفارش پر سندھ کے ضلع بدین میں پیر سے فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ صوبے کے دوسرے انتہائی حساس ضلع سانگھڑ میں پہلے ہی بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق بدین کے علاوہ دیگر اضلاع میں انتخابات سے ایک روز قبل یعنی 18 نومبر کو فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی جائے گی۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں خیرپور کے علاقے درازہ میں ایک پولنگ سٹیشن پر تصادم کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے اکثریت کا تعلق پیر پاگارہ کی جماعت مسلم لیگ فنکشنل سے تھا۔ جس کے بعد حر جماعت کی آبادی والے اضلاع سانگھڑ اور عمرکوٹ میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سانگھڑ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کرکن سعود آرائیں ہلاک ہوگیا تھا۔

کشیدگی میں اضافے کے بعد الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کر دیے تھے۔

بدین میں پاکستان پیپلز پارٹی سے منحرف سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا سامنے کر رہے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں 78 لاکھ 91 ہزار افراد اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندوسرے مرحلے میں 78 لاکھ 91 ہزار افراد اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے

بلدیاتی انتخابات کی مہم میں ان کی بیگم رکن قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا اور بیٹا رکن صوبائی اسمبلی حسنین مرزا بھی شریک ہیں۔ مرزا کے آزاد پینل کو مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کی حمایت حاصل ہے۔

بدین میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی ریلی کے موقعے پر فائرنگ کے بعد رینجرز نے دو افراد کو پیپلز پارٹی کے کیمپ سے گرفتار کر لیا تھا۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی بیگم رکن قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کا دعویٰ تھا کہ ان کے شوہر پر حملے کی کوشش کی گئی ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے 15 اضلاع میں 7000 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے، ان میں سے 5000 حساس قرار اور نصف انتہائی حساس قرار دیے گئے جن میں اکثریت سانگھڑ اور بدین کی تھی لیکن بعد میں سانگھڑ میں انتخابات ہی ملتوی کر دیے گئے۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی گروپوں کی جانب سے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے انتخابات میں پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

حیدرآباد، بدین، دادو، جام شورو، مٹیاری، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹھٹہ، ٹنڈوالہیار، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، میرپور خاص، عمرکوٹ، تھرپارکر میں 19 نومبر کو بلدیاتی انتخابات منقعد ہوں گے، جس میں 15208 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جبکہ 1134 پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

ان اضلاع میں 78 لاکھ 91 ہزار افراد اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے، جن میں خواتین ووٹر کی تعداد 36 لاکھ 29 ہزار ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 15 میں سے 7 اضلاع میں بیلٹ پیپر کی ترسیل ہو چکی ہے۔

عمرکوٹ، تھرپارکر، بدین، سجاول اور ٹھٹہ میں پیپلز پارٹی کو ارباب، شیرازی خاندانوں کے علاوہ ذوالفقار مرزا، مسلم لیگ فنکشنل اور تحریک انصاف کا سامنا ہے، گذشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان علاقوں میں جلسے اور ریلیاں کر کے عوامی حمایت لینے کی بھی کوشش کی ہے۔