ملاکنڈ:’پولیو مہم سڑک کی تعمیر سے مشروط‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, سوات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ملاکنڈ میں مقامی لوگوں نے سڑک کی تعمیر مکمل نہ ہونے تک بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا ہے۔
یہ فیصلہ ملاکنڈ کے علاقے خانوڑی میں ہونے والے مقامی جرگے میں علاقے عمائدین کی جانب سے کیاگیا ہے، جس کے بعد اس علاقے کے سینکڑوں بچے پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں سے محروم ہوگئے ہیں۔
علاقے کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے کے دوسرے قصبے سے روڑ کی تعمیر پر کئی سالوں سے تنازع چلا آ رہا ہے جس کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ سے کئی بار درخواست کی گئی ہے لیکن انتظامیہ مسئلے کے حل میں دلچسپی نہیں لے رہی۔
علاقے کے عمائدین پر مشتمل جرگے میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ جب تک روڈ کی تعمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک کسی بھی بچے کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جائیں گے اور اگر کسی نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے تو انھیں علاقہ بدر کیا جائےگا۔
جرگے کے ایک ممبر یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 1983 میں بننے والا روڑ تاحال پختگی کے عمل سے محروم ہے اور بار بار منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہو سکی ہے، جس سے علاقے کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس بابت انتظامیہ کے ساتھ آج منگل کو مذاکرات بھی ہوئے جو ناکام رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
یوسف کے مطابق روڑ کی تعمیر کے اس مسئلے کے حل تک جرگے کا فیصلہ اٹل ہے اور بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جائیں گے۔
ان کے مطابق علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی محمد علی شاہ اور اس کے بھائی احمد باچا جو ضلع ناظم ہیں وہ بھی اس مسئلے کے حل میں دلچسپی نہیں لے رہے حالانکہ گاؤں کے دو ہزار سے زائد ووٹرز میں سے اکثریت نے ان کو ووٹ دیے ہیں۔
آٹھ ہزار آبادی پر مشتمل اس علاقے میں حالیہ زلزلے میں 20 کے قریب مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے اس دور افتادہ علاقے میں امدادی ٹیموں کو آنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں چار روزہ اس مہم کے دوران مجموعی طور پر پانچ سال سے کم عمر 54,77,684 بچوں کو پولیو سےبچاؤ کے قطرے پلائے جانے کا ہدف مقرر کیاگیا ہے۔







