ریحام عمران پر ہاتھ نہیں اٹھاتی تھیں

،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN OFFICIAL
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ترجمان شیریں مزاری نے عمران خان اور ریحام خان کی علیحدگی کی وجوہات کے بارے میں میڈیا پر چلنے والی مختلف خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔
جمعرات کو ڈاکٹر شیریں مزاری کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا کہ عمران خان اور ریحام خان، ان کے بچے اور ان کا خاندان علیحدگی کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ایسے میں میڈیا کی قیاس آرائیاں اور افواہیں مایوس کن اور افسوس ناک ہیں۔
عمران خان کی ترجمان شیریں مزاری نے ان خبروں کی تردید کی جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریحام خان کو رقوم کی ادائیگی ہوئی تھی اور یہ کہ ریحام خان عمران خان پر ہاتھ اٹھاتی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ریحام خان کی جانب سے عمران خان پر دست درازی کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں اور بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔‘
شیریں مزاری نے یہ بھی وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کے کسی رہنما کا عمران اور ریحام کی طلاق کے عمل میں کوئی کردار نہیں۔
’تحریکِ انصاف کے بعض رہنماؤں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ عمران خان اور ریحام خان کی علیحدگی کی وجہ بنے، بالکل من گھڑت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے نہ پہلے کبھی چیئرمین کی نجی زندگی میں مداخلت کی اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
خیال رہے کہ پاکستانی میڈیا کی خبروں اور ٹاک شوز میں گذشتہ ایک ہفتے سے ریحام اور عمران خان کی علیحدگی اور طلاق کا معاملہ ایک بڑے موضوع کے طور پر سامنے ہے۔
پی ٹی آئی کے وضاحتی اور مذمتی بیان سے قبل نجی ٹی وی چینل جیو نیوز نے ریحام خان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کا اس علیحدگی میں اہم کردار ہے۔
عمران خان اور ریحام خان نے گذشتہ جمعے ایک دوسرے سے علیحدگی کی تصدیق کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
دونوں شخصیات نے چند دن تک خاموش رہنے کے بعد منگل کو میڈیا کا سامنا کیا۔ تاہم جب ایک صحافی نے عمران خان نے ان کی مردم شناسی کے حوالے سے سوال کیا تو عمران خان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی نجی زندگی پر بات کرنا باعث شرم ہے۔
مانچیسٹر میں میڈیا کانفرنس سے ریحام خان کے خطاب میں عمران خان سے علیحدگی پر کوئی بات سامنے نہیں آئی، تاہم میڈیا کی جانب سے ان کے چند جملوں کو اسی معاملے سے جوڑ دیا گیا۔
اس کے بعد ریحام خان نے اس اقدام کو شرمناک قرار دیا تھا لیکن انھوں نےگذشتہ روز نجی ٹی وی چینل کی جانب سے جہانگیر ترین کا نام لیے جانے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔







