ناران برفباری میں اب بھی 500 سیاح محصور: حکام

فوج ، فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن اور دیگر تمام ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور فی الحال ایسی کوئی ایمرجنسی کی صورتحال نظر نہیں آرہی: نجیب الرحمان

،تصویر کا ذریعہZeshan Khan

،تصویر کا کیپشنفوج ، فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن اور دیگر تمام ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور فی الحال ایسی کوئی ایمرجنسی کی صورتحال نظر نہیں آرہی: نجیب الرحمان
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں حکام کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات ناران اور کاغان میں پھنسے ہوئے تقریباً 1500 کے قریب سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ دیگر سیاحوں کو نکالنے کے لیے امدادی کاروائیاں جاری ہے۔

مانسہرہ کے ضلعی پولیس سربراہ نجیب الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ناران کے علاقوں میں امدادی کارروائیاں رات گئے تک جاری رہیں اور اب تک کوئی 1500 کے قریب سیاحوں کو بحفاظت متاثرہ علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔

نجیب الرحمان کے بقول تقریباً پانچ سو کے قریب سیاح بدستور ناران اور آس پاس کے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں آج شام تک بحفاظت نکال لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ناران بازار اور آس پاس کے علاقوں میں برف باری، تنگ سڑک اور گاڑیوں کے رش کی وجہ سے بدستور سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ تاہم پیر کی شام تک تمام پھنسے ہوئے افراد کو علاقے سے بحفاظت نکال لیا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج ، فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن اور دیگر تمام ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور فی الحال ایسی کوئی ایمرجنسی کی صورتحال نظر نہیں آرہی۔

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ علاقے میں اچانک بھگدڑ کی صورتحال برف باری اور گاڑیوں کے رش کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

ان کے مطابق محرم کی چھٹیوں میں ناران اور کاغان کی طرف ہزاروں سیاح آئے ہوئے تھے اور جب برف باری شروع ہوئی تو تمام لوگ خوف کی وجہ سے اچانک اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے جس کی وجہ سے سڑکوں پر بہت رش جمع ہو گیا اور کچھ گاڑیاں برف باری میں پھنس گئی جس سے تمام سڑکیں بند ہوگئی اور ایک ایمرجسنی جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔

مانسہرہ کے مقامی صحافی نثار محمد خان کا کہنا ہے کہ علاقے کی تمام سڑکیں کھول دی گئی ہیں صرف چند درجن گاڑیاں برف باری کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہیں جنھیں نکالنے کے لیے امداری کاروائیاں جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہZeeshan Khan

،تصویر کا کیپشنمانسہرہ کے مقامی صحافی نثار محمد خان کا کہنا ہے کہ علاقے کی تمام سڑکیں کھول دی گئی ہیں صرف چند درجن گاڑیاں برف باری کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہیں جنھیں نکالنے کے لیے امداری کاروائیاں جاری ہیں

انھوں نے کہا کہ علاقے میں بارش اور برف باری کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ مزید ایک سے دو دنوں تک جاری رہے گا۔

مانسہرہ کے مقامی صحافی نثار محمد خان کا کہنا ہے کہ علاقے کی تمام سڑکیں کھول دی گئی ہیں صرف چند درجن گاڑیاں برف باری کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہیں جنھیں نکالنے کے لیے امداری کاروائیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے بشیتر اضلاع میں گذشتہ 24 گھنٹوں سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت بالائی علاقوں میں صوبہ خیبر پختونخوا اور کشمیر کے علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ شمالی علاقوں میں مزید برف باری کا امکان ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش بالاکوٹ، کاکول اور کوہاٹ میں ہوئی جو 52 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔