جیکب آباد میں محرم کے جلوس پر حملے میں 22 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
صوبۂ سندھ کے شہر جیکب آباد میں نویں محرم کے ماتمی جلوس کے موقعے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے جس میں 22 افراد ہلاک اور40 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
دھماکے کے بعد جیکب آباد اور کراچی میں احتجاج بھی کیا گیا ہے۔
جیکب آباد سول ہپستال کے اہلکار راجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس 22 لاشیں لائی گئی ہیں۔
قبل ازیں سپرنٹینڈنٹ پولیس ظفر ملک نے صحافی علی حسن کو بتایا تھا کہ اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ خودکش حملہ ہو سکتا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن جیکب آباد کے رضاکار محمد عرس نے بی بی سی نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ انھوں نے 22 لاشیں اٹھائی ہیں جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق دھماکے میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 20 کے قریب زخمیوں کو جیکب آباد کے شہباز ایئر بیس پہنچایا گیا ہے، جہاں سی ون تھری طیارہ موجود ہیں انھیں کسی قریبی شہر کے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے
جیکب آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ساڑھے سات بجے جلوس درگاہ حاجن شاہ سے ہوتا ہوا لاشاری محلہ سے گزر رہا تھا کہ اس میں دھماکہ ہوا۔
سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق اس دھماکے میں چار بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زخمیوں کو سول ہسپتال اور امام میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
جیکب آباد کے صحافی پرویز ابڑو کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال میں تین بچوں سمیت 15 لاشیں لائی گئی ہیں، جبکہ 30 سے زائد زخمی ہیں جن میں سے بعض کے اعضا الگ ہوگئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سول ہپستال میں بستروں اور عملے کی کمی ہوگئی ہے، جس پر لوگ کافی مشتعل ہیں اسی دوان جب صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ممتاز جکھرانی پہنچے تو انہیں ہسپتال میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔
پولیس اور رینجرز نے جائے وقوع کا محاصرہ کرلیا ہے، وہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
کراچی میں نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مجلس وحدت مسلمین نے اعلان کیا ہے یوم عاشور کے جلوسوں میں ملک بھر میں احتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے۔
مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ باقر زیدی کا کہنا تھا کہ شکارپور دھماکے کے بعد حکومت نے سندھ نے لاپرواہی کی اگر ان کے مطالبات مان لیے جاتے تو جیکب آباد میں یہ واقعہ رونما نہیں ہوتا وہ اس کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو بھی سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب جیکب آباد میں میتوں سمیت ورثا کا دھرنا جاری ہے، صوبائی وزیر ممتاز جکھرانی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے ہیں جس میں مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس پی جیکب آباد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
یاد رہے کہ جمعہ کو وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محرم کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں ڈی جی رینجرز بلال اکبر نے آگاہ کیا کہ جیکب آباد، شکارپور، سکھر اور خیرپور میں 104 حساس مقامات کی نشاندھی کی گئی ہے ۔ جنوبی سندھ میں بارہ سو سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس غلام حیدر جمالی سے فوری رابطہ کیا ہے، اور انھیں ہدایت کی کہ واقعے کی وجہ بننے والی خامیوں کی نشاندہی کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ پولیس اور ڈی جی رینجرز کو ہدایت کی کہ سندھ صوبے کی تمام داخلی راستوں پر خاص طور پر بلوچستان سے داخلی راستوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ پولیس اور متعلقہ ڈی آئی جی کو محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجالس اور جلوس ختم ہونے کے بعد عزاداروں کی اپنے گھروں تک بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بھی سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر جیکب آباد میں مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کی ہے، ڈپٹی کمشنر شاہ زمان کھوڑو کا کہنا ہے کہ ان کے گھر پر فائرنگ کی گئی ہے اور انھوں نے فوج کو طلب کرلیا ہے۔
صدرِ پاکستان ممنون حسین اور وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس دھماکے کی مذمت کی ہے، جب کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کو صوبے کے اندر امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گذشتہ روز بلوچستان کے ضلع کچھی میں ایک امام بارگاہ پر خودکش بم دھماکے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







