کراچی: فائرنگ کے نتیجے میں جماعت احمدیہ کے تین افراد زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں ایک حملے میں جماعت احمدیہ کے تین افراد زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹڈ ہے جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈکیتی کا معاملہ ہے۔
یہ واقعہ گلشن اقبال بلاک 3 میں پیش آیا۔گلشن اقبال پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب احمدی جماعت کے لوگ عبادت کے بعد واپس گھر جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی، جس سے 55 سالہ سلیم رفاقت اور ان کا 17 سالہ بھانجا شاہمیر زخمی ہوگئے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد نے چھینا جھپٹی کی کوشش کی تھی اور مزاحمت پر فائرنگ کر دی۔ تاہم حملہ آور کوئی چیز چھیننے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب جماعت احمدیہ کے کراچی میں ترجمان کا کہنا ہے کہ رفاقت سلیم ایس آر اپنے دو بھانجوں کے ہمراہ عبادت کے بعد کار میں اپنے گھر کے قریب پہنچے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس میں ایس آر اپنے دونوں بھانجوں سمیت زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’سلیم رفاقت کو دو گولیاں لگی ہیں، جس میں سے ایک نے کندھے اور دوسری نے ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کیا ہے، جبکہ معاذ احمد کو ایک گولی چھوتے ہوئے گزر گئی جسے ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد کے بعدگھر بھیج دیا ہے۔ شامیر احمد کو پیٹ میں گولی لگی وہ اس وقت انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احمدیہ جماعت کے ترجمان نے پولیس کے موقف کو مسترد کیا اور کہا کہ پولیس حقائق کو مسخ کر رہی ہے۔
احمدیہ جماعت کے مطابق سنہ 1984 سے رواں سال ستمبر تک 251 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے، جس میں کراچی میں رواں سال دو افراد کو قتل اور تین کو زخمی کرنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت انگیز لٹریچر مسلسل شائع اور تقسیم ہو رہا ہے جس سے احمدیوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
’نیشنل ایکشن پلان میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ نفرت انگیز تحریر اور تقریر پر کارروائی کی جائے گی مگر احمدیوں کے خلاف انتہا پسند عناصر مسلسل منفی پراپیگنڈہ کیے جا رہے ہیں جس سے شر پسند عناصر جواز اور تقویت پا کر احمدیوں کی زندگی سے کھیلتے ہیں۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ نامعلوم حملہ آوروں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔







