احمدی عبادت گاہ پر حملے کے مجرم کو سزائے موت

لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ساڑھے چار برس قبل احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے کے جرم میں ایک حملہ آور کو سزائے موت جبکہ دوسرے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ حملہ 28 مئی 2010 کو ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں واقع عبادت گاہ پر گیا تھا۔
ماڈل ٹاؤن کے علاوہ حملہ آوروں نےگڑھی شاہو میں بھی ایک عبادت گاہ پر حملہ کیا تھا اور ان دونوں حملوں میں87 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
<link type="page"><caption> 28 مئی کو احمدی عبادتگاہوں پر حملے کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/05/100528_lahore_ahmedia_attack.shtml" platform="highweb"/></link>
گڑھی شاہو میں عبادت گاہ پر حملہ کرنے والے دو حملہ آور پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ماڈل ٹاؤن میں حملہ کرنے والے تین میں سے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ دو دہشت گردوں معاویہ اور عبداللہ عرف محمد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
معاذ نے اس کارروائی کے دوران خودکش حملہ کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن وہ اس کوشش میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔
وکیلِ استغاثہ رائے آصف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سنیچر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے معاویہ کو سات بار سزائے موت، دو مرتبہ عمر قید کی سزا دینے کا حکم دیا جبکہ عبداللہ کو کم عمر ہونے کی وجہ سے نو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی۔

اس کے علاوہ دونوں مجرمان کو 33، 33 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور پولیس نے قتل ، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے علاوہ دیگر فوجداری دفعات کے تحت ان دونوں عبادت گاہوں پر حملوں کے الگ الگ مقدمات درج کیے تھے۔
تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درج مقدمے میں عبداللہ عرف محمد اور معاویہ نامزد ملزم تھے جبکہ دیگر ملزم نامعلوم لکھے گئے تھے۔
گڑھی شاہو کی عبادت گاہ پر حملے کے سلسلے میں چھ نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا گیا تھا۔
احمدیوں کی دونوں عبادت گاہوں پر مسلح حملہ آوروں نے جمعے کی دوپہر اس وقت حملے کیے تھے جب بڑی تعداد میں لوگ عبادت کے لیے جمع تھے۔

مقامی پولیس حکام کے مطابق تین مسلح افراد نے ماڈل ٹاؤن کے سی بلاک میں واقع احمدی عبادت گاہ جبکہ اسی دوران پانچ سے چھ مسلح افراد گڑھی شاہو میں واقع عبادت گاہ میں گھسے اور وہاں موجود افراد پر فائرنگ کی اور انہیں یرغمال بنا لیا۔
اس دور میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا تھا کہ لاہور میں ہونے والے حملے سکیورٹی اداروں کی کوتاہی کا نتیجہ ہیں اور یہ کہ حملہ آوروں کی تعداد چھ کے قریب تھی اور وہ جنوبی اور شمالی وزیرستان سے دس زور قبل لاہور آئے تھے۔







