کامرہ میں فائرنگ، احمدی فرقے کا رکن ہلاک

احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو پاکستان میں مذہبی تعصب کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہSAAPK

،تصویر کا کیپشناحمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو پاکستان میں مذہبی تعصب کا سامنا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں پولیس کا کہنا ہے کہ اقلیتی احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ کامرہ میں پیش آیا ہے اور مقامی پولیس اسٹیشن کے اہلکار قاسم علی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ مقتول لطیف عالم بٹ کے بیٹے نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست دی ہے۔

جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو نامعلوم افراد نے لطیف بٹ کو اس وقت گولیاں ماریں جب وہ اپنی دکان سے گھر واپس لوٹ رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ 62 سالہ لطیف احمدنے پاکستان فضائیہ سے ریٹائر ہونے کے بعد کامرہ میں اپنی دکان کھول لی تھی۔

’ وہ 25 سے 30 سال سے وہیں مقیم تھے اور علاقے کے جانے پہچانے احمدی تھے۔ ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی، انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا ہے۔‘

پولیس کے مطابق لطیف عالم بٹ کے ہمسائیوں نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان کی موت ہسپتال پہنچنے کے بعد ہوئی۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ رواں سال اب تک پاکستان میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ہلاک شدگان کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔

پاکستان میں احمدیہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو 1974 میں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔

حالیہ چند برس میں اس فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملے ہوتے رہے ہیں اور 2010 میں لاہور میں ان کی عبادت گاہ پر حملے میں لگ بھگ 100 افراد ہلاک ہوئے تھے۔