’ایسا لگتا تھا سرحد پر جنگ ہو رہی ہے‘

    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

گولیاں چلنے کی آوازیں ایسے آرہی تھی جیسے کسی سرحد پر جنگ ہورہی ہو۔ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں کے بعد سب اپنی اپنی جگہ لیٹ گئے اور دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔

یہ الفاظ احمدیوں کی گڑھی شاہو کی عبادت گاہ میں موجود ان افراد کے ہیں اس عبادت گاہ پر حملے کے وقت عمارت کے اندر موجود تھے۔

<link type="page"><caption> احمدی مرکز میں تباہی: تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/05/100529_pics_ahmadi_markaz_inside.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> لاہور میں احمدیوں پر حملے، تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/05/100528_lahore_ahmedia_attack.shtml" platform="highweb"/></link>

جمعہ کی دوپہر کو بیک وقت لاہور کے علاقوں ماڈل ٹاؤں اور گڑھی شاہو میں حملے کیے گئے جس میں بیاسی افراد ہلاک ہوئے اور ایک سو زائد زخمی ہیں۔

انور بھٹی اس وقت گڑھی شاہو میں واقع عبادت گاہ کے اندر تھے جب عبادت گاہ پر حملہ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بجکر چالیس منٹ کا وقت تھا جب انہیں فائرنگ کی آوازیں آئیں اور بقول ان کے ایسا لگ رہا تھا جیسے لوگ گولیوں کا تبادلہ کررہے ہوں اور وہ کسی سرحد کے قریب ہیں جہاں پر جنگ ہورہی ہے۔ انور بھٹی نے بتایا کہ اسی دوران وہ اور وہاں موجود دیگر لوگ لیٹ گئے جبکہ کچھ باہر کی طرف بھاگے۔

انور بھٹی بتاتے ہیں کہ ’فائرنگ کے دوران ہی بم مارنے کی آواز بھی آئیں اور چھ سے سات دھماکے ہوئے جس پر کوئی کہیں چھپ گیا تو کوئی کہیں۔ میں نے سڑھیوں کے پیچھے جاکر اپنی جان بچائی اور اس تمام کشمکش میں مجھے چوٹ بھی لگ گئی تاہم جان بچ گئی‘۔

حملے کے وقت زاہد نذیر گڑھی شاہو کی عبادت گاہ کے تہہ خانے میں تھے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور پھر فائرنگ اتنی شدید ہوگئی کہ انہیں یوں لگ رہا تھا کہ عمارت کے چاروں طرف سے فائرنگ کی جا رہی ہے۔

زاہد نذیر
،تصویر کا کیپشنزاہد نذیر ڈیڑھ گھنٹے تک عمارت کے تہہ خانے میں محصور رہے

ان کے بقول اس تمام صورت میں حال میں وہ ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں پر محصور رہے اور اسی دوران انہوں اور ان کے دیگر ساتھیوں وہاں تہہ خانے میں بیٹھے بیٹھے دعائیں مانگنا شروع کردیں۔

محمد زبیر بھی ان افراد میں سے ایک ہیں جو دھماکے کے وقت عبادت گاہ کے اندر تھے ۔ ان کے بقول ’پہلے فائرنگ ہوئی جس کے بعدگرینیڈ کا دھماکہ ہوا اور ایک افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی اور حملوں کی فائرنگ سے ایک خوف ناک منظر دکھائی دے رہا تھا‘۔

اسلم بھٹی گڑھی شاہو کے رہائشی ہیں اور ان کا گھر احمدیوں کی عبادت گاہ کی مدمقابل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حملے سے پہلے انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا جس کے چہرے پر دڑاھی اور مونچھ نہیں تھی اور اس نے خاکی رنگ کی پتلون پہنی ہوئی تھی اور ایک واٹر کولر اٹھا رکھا ۔ ان کے بقول لڑکے واٹر کولر پیٹرول پمپ کے قریب ایک گاڑی کے پاس رکھا اور پھر دھماکا ہوگیا جس کے بعد حملوں آور نے پہلے عبادت گاہ کے باہر کھڑے گارڈز کو مارا اور پھر وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ عمارت کے اندر داخل ہوگئے جس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنائی دینا شروع ہوگئیں۔