شامی باغیوں کی تربیت کے امریکی پروگرام میں تبدیلیاں

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کا کہنا ہے کہ شام میں باغیوں کو اسلحہ اور تربیت دینے کے منصوبے کو ازسرنو تشکیل دیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ شامی باغیوں کے پروگرام پر عمل درآمد میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاہم بنیادی مقاصد وہی رہیں گے۔
<link type="page"><caption> ’صرف چار یا پانچ ہی لڑ رہے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150917_us_general_as" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’امریکی تربیت یافتہ باغیوں نے اسلحہ النصرہ فرنٹ کو دے دیا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150926_syrian_rebels_trade_in_ammo_zs" platform="highweb"/></link>
’ہم کئی ہفتوں سے اس پروگرام کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ میں پہلے کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں، تو اب ہم اس سے مختلف طریقوں کو دیکھ رہے ہیں تاکہ پہلے سے طے کردہ بنیادی دفاعی مقصد حاصل کیا جا سکے۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ اس مقصد کے تحت زمین پر موجود اہل اور جذبہ رکھنے والی فورسز کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے اپنے علاقے واپس لے سکیں اور شام کو شدت پسندی سے آزاد کرائیں۔‘
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ انھیں ان اطلاعات پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے کہ شام میں روسی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صدر اوباما باغیوں کے پروگرام میں کئی جانے والی تبدیلیوں کے بارے میں جلد ہی اعلان کرنے والے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی وزیر دفاع نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی تردید کی کہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے شام میں باغیوں اسلحہ اور تربیت دینے کا 50 کروڑ ڈالر کا منصوبہ ختم کیا جا رہا ہے۔
ایک برس قبل ستمبر امریکی کانگریس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اہم حکمتِ عملی کے تحت 5,000 باغیوں کو تربیت، اسلحہ اور دیگر سامان فراہم کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی۔ تاہم گذشتہ ماہ ہی ایک امریکی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔
جنرل لائیڈ آسٹن نے سینیٹ کے اراکین کو اس وقت امریکی تربیت یافتہ باغیوں میں سے صرف چار یا پانچ افراد ہی لڑ رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے 54 تربیت یافتہ باغیوں کو القاعدہ سے منسلک گروہ نے ختم کر دیا تھا جبکہ اس پر رپبلکن سینیٹر کیلی آیوٹے نے کہا کہ باقی افراد کی تعداد ایک ’مذاق‘ ہے۔
اس کے بعد امریکی فوج کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق جن شامی باغیوں کو تربیت دی گئی تھی ان میں سے کچھ نے اپنا اسلحہ اور گاڑیاں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے حوالے کی ہیں۔







