’پالپا قومی ایئر لائن کے لیے خطرے کا موجب بن گئی‘

- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے اور اس کے پائلٹس کی ایسوسی ایشن’پالپا‘ کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں پی آئی اے کے چیئرمین نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے۔
چیئرمین پی آئی ناصر جعفر نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پالپا کے صدر کیپٹن عامر ہاشمی کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی۔
ناصر جعفر نے بتایا کہ آج 6 اکتوبر کو 107 پروازوں میں سے صرف دو منسوخ ہوئیں جو کہ اُن کے بقول 90 فیصد پائلٹس کے تعاون کے نتیجے میں ممکن ہوا جن کا انھوں نے شکریہ ادا کیا۔
چیئرمین پی آئی اے نے کہا کہ وہ فضائی کمپنی کو اس ساری صورتحال میں پلان بی دینے پر حکومت کے شکر گزار ہیں۔
پلان بی کے تحت ہی وائس چیف آف نیول سٹاف نے پی آئی اے کو کل سے ایک اے ٹی آر طیارہ کراچی میں اور جمعرات سے ایک اسلام آباد میں دینے کی یقین دہانی کروائی ہے تاکہ پی آئی اے کی پرواز منسوخ ہونے کی صورت میں مسافروں کو منزل تک پہنچایا جا سکے۔
اس کے علاوہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان پرویز جارج نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پالپا کے چند عناصر پی آئی کے وجود کے لیے خطرہ بنتے جا رہی ہیں جو فضائی کمپنی کے تحفظ، اس کے مسافروں کے تحفظ اور مالیاتی مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔‘

اسی طرح سی اے اے نے پی آئی اے کے 21 پائلٹس کے بیمار پڑ جانے کی تحقیقات کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کا اعلان کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناصر جعفر نے بتایا کہ پالپا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اب یہ تین شرائط رکھی ہیں۔
پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن کو ہٹائیں، دوسرا مطالبہ ہے کہ جو شو کاز نوٹس پالپا کے پائلٹس یا فرسٹ آفیسرز کو یا کسی کو بھی جاری شو کاز نوٹس واپس لیں اور تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ سنیارٹی مقرر کریں تو ہماری مرضی سے کریں۔
دوسری جانب نجی فضائی کمپنیوں کی جانب سے اس صورتحال میں مقامی پروازوں کے کرائے بڑھانے کا وزیراعظم نے نوٹس لیا ہے اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے اس کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
مسابقتی کمیشن کے مطابق ’کیمشن نے نجی فضائی کمپنیوں کی جانب سے کرائے میں بے جا اضافے کا نوٹس لیا ہے اور اگر ان کمپنیوں کو غیر مسابقتی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔‘







