1956 سے 2015 تک پی آئی اے کے عملے کی یونیفارم کی تاریخ
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے فضائی اور زمینی عملے کے لیے نئے یونیفارمز کے انتخاب کے لیے پیر کی شب کراچی میں ایک خصوصی فیشن شو ’رن وے 2015‘ منعقد ہوا۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1954 سے 1956 تک پاکستان کی فضائی کمپنی کی میزبانوں کا لباس کچھ یوں ہوا کرتا تھا۔
،تصویر کا کیپشن1956 سے 1960 تک پی آئی اے کا عملہ پاکستانی ڈیزائینر لیلی شہزادہ اور فرانسیسی ڈیزائنر شوزی فونٹینیئر کے ڈیزائن کردہ ملبوسات زیبِ تن کرتا رہا۔
،تصویر کا کیپشن1960 سے 1966 کے دوران فضائی میزبانوں کے لباس ڈیزائن کرنے کا کام فیروز کاؤس جی نے سنبھالا۔
،تصویر کا کیپشناطالوی نژاد فرانسیسی ڈیزائنر پیئری کارڈن کے ملبوسات پی آئی اے کا عملہ اگلے نو برس تک پہنتا رہا۔
،تصویر کا کیپشن1975 سے 1986 کے دوران برطانوی فیشن ڈیزائنر سر ہارڈی آمیس نے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کے عملے کے ملبوسات ڈیزائن کیے۔
،تصویر کا کیپشن1986 میں پاکستانی ڈیزائنر ناہید اظفر نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور پی آئی اے کا عملہ اگلے 17 برس تک ان کی ڈیزائن کردہ یونیفارم ہی پہنتا رہا۔
،تصویر کا کیپشن2004 میں پی آئی اے کے عملے کی یونیفارم پھر تبدیل کی گئی اور اس مرتبہ ڈیزائینگ کی ذمہ داری رفعت یاسمین کو دی گئی۔
،تصویر کا کیپشن2015 میں نئی یونیفارم کے مقابلے میں مرد عملے کی بہترین یونیفارم عمر فاروق کی قرار پائی۔
،تصویر کا کیپشنخواتین عملے کے لیے نومی انصاری کا ڈیزائن منتخب کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنیاسمین شیخ کا ڈیزائن کردہ کوٹ بھی جیوری کے ارکان کی پسندیدگی کی سند پا گیا۔
،تصویر کا کیپشنایئرہوسٹسز کے سر پر اب ثانیہ مسکیتا کی ڈیزائن کردہ ٹوپی دکھائی دے گی۔