’بلوچستان کے سکولوں میں تین لاکھ بچوں کا بوگس اندراج‘

2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں چھ سے 16 سال کی عمر کے چونتیس اعشاریہ ایک فیصد بچے سکول نہیں جاتے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں چھ سے 16 سال کی عمر کے چونتیس اعشاریہ ایک فیصد بچے سکول نہیں جاتے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سکولوں میں تین لاکھ بچوں کے بوگس اندراج کے ساتھ ساتھ نو سو گھوسٹ سکولوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے یہ انکشاف محکمہ تعلیم اور یونیسیف کے اشتراک سے سکولوں کے نظام کی نگرانی کے پروگرام کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

<link type="page"><caption> ’بلوچستان میں 34 فیصد بچے سکول نہیں جاتے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130207_balochistan_education_report_rwa" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بلوچستان میں ’تعلیم کا مستقبل خطرے میں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/12/101213_hrw_baluchistan_education_zs" platform="highweb"/></link>

اعلامیے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا حق ہے اور یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ سکولوں میں 3 لاکھ بچوں کا بوگس اندراج کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے میں نو سو سکول ایسے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں لیکن ان کے اخراجات کی مد میں صوبائی حکومت سے رقم حاصل کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ’یہ صوبہ ہم سب کا ہے اور یہاں کے بچے ہم سب کے بچے ہیں اور اگر ہم اپنے بچوں کے لیے اب بھی کچھ نہیں کر سکے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔‘

بلوچستان میں نو سو سکول ایسے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں نو سو سکول ایسے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیمی اور معاشی انقلاب لانے کے لیے سب سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے ’ہم سب اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ شعبۂ تعلیم کی ترقی کے لیے تمام تر دستیاب وسائل مہیا کیے گئے ہیں اور میرٹ کے قیام، نقل کے خاتمے اور اہلیت پر اساتذہ کی تعیناتی اور تبادلوں کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دو برس قبل بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال پر مرتب کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صوبے میں چھ سے 16 سال کی عمر کے چونتیس اعشاریہ ایک فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔

سکول نہ جانے والوں میں بچوں میں سے 21 فیصد لڑکیاں اور 13 فیصد لڑکے تھے۔