سمارٹ فونز کے ذریعے اساتذہ و طلبا کی نگرانی

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سکولوں میں سمارٹ فونز کے ذریعے اساتذہ ، طلباء اور طالبات کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صوبے میں انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ یا آزاد نگراں ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اس منصوبے کا افتتاح کیا ہے اور اس کے لیے ایک جاپانی اور ایک برطانوی ادارے نے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی معاونت کی ہے۔
وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں گھوسٹ سکولز اور گھوسٹ اساتذہ (کاغذوں تک محدود سکول و اساتذہ) کی نگرانی ، پراکسی اساتذہ اور طلباء کی نشاندہی سے معیارِ تعلیم کو بہتر کیا جا سکے گا۔
صوبائی وزیرِ تعلیم محمد عاطف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اساتذہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے یہ ادارہ اہم کردار ادا کر سکے گا۔
اس ادارے کا مقصد ایسے اساتذہ کی نشاندہی کرنا ہوگا جو سکول میں حاضر نہیں ہوتے۔ اس مقصد کے لیے نگرانی کرنے والے عملے کو سمارٹ فونز دیے جائیں گے جو موقع پر پہنچ کر رپورٹ دیں گے کہ کون کونسے اساتذہ غیر حاضر ہیں۔
سمارٹ فون کے استعمال سے یہ بھی واضح ہو سکےگا کہ نگراں عملے کے افراد یہ رپورٹ اس موقع یعنی اسی سکول سے دے رہے ہیں۔
اس کے لیے چار سو افسران کو بھرتی کیا گیا ہے اور اور نگران افسر روزانہ ساٹھ سکولوں کا دورہ کرے گا جہاں سے وہ تفصیلی رپورٹ محکمہ تعلیم کے افسران کو فراہم کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سمارٹ فون میں ایسا فارم ہے جس میں تمام تفصیل فراہم کرنا ہوگا جس میں اساتذہ کی حاضری کے علاوہ طلباء کی حاضری فرنیچر اور دیگر معلومات کی تفصیلات شامل ہیں۔
صوبائئ وزیر تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق ان کی حکومت نے چھ سو سے زیادہ اساتذہ کے خلاف کارروائی کی ہے جن میں کچھ ایسے ہیں جنھیں نوکریوں سے برحاست کر دیا گیا ہے جبکہ ایسے اساتذہ بھی ہیں جن کے خلاف محکمانہ انکوائری کی گئی ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس نظام میں کمزوریاں ہیں جیسا کہ ایک افسر کے لیے روزانہ ساٹھ سکولوں کا دورہ مشکل ہوگا ۔
ماضی میں اساتذہ کی بھرتی سیاسی بنیادوں پر کی جاتی رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر اساتذہ سکولوں میں حاضر نہیں ہوتے اور گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ایک اور منصوے پر بھی کام جاری ہے جس کا نام ’سکول تعمیر کرو‘ رکھا گیا ہے اور اس کے لیے سمندر پار پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت سمندر پار پاکستان دہشت گردی اور قدرتی آفات سے متاثرہ سکولوں کی مرمت اور بحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ امداد کسی سرکاری محکمے میں نہیں بلکہ براہ راست مذکورہ سکولوں کو جائے گی اور وہاں ان پر اسی وقت کام شرفوع کر دیا جائے گا۔







