جاوید اقبال محض فرزندِ اقبال نہیں تھے

علامہ کا انتقال ہوا تو جاوید اقبال چودہ برس کے تھے
،تصویر کا کیپشنعلامہ کا انتقال ہوا تو جاوید اقبال چودہ برس کے تھے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

عام طور سے نامور تاریخی شخصیات کی اولاد کتنی بھی با صلاحیت ہو بزرگوں کے اثاثے تلے دب کے رہ جاتی ہے۔ عام لوگ زندگی بھر ان کا موازنہ ان کے بزرگوں سے کرتے رہتے ہیں ۔لیکن کچھ مستثنیات بھی ہیں۔ جیسے اندرا بھلے نہرو کی بیٹی تھیں مگر اندرا گاندھی بھی تھیں۔ بے نظیر نے ذوالفقار علی بھٹو کے دیگر بچوں کے مقابلے میں اپنی انفرادی شخصیت و صلاحیت کے اثرات پاکستانی سیاست پر ثبت کیے۔

<link type="page"><caption> جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال چل بسے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151003_justice_javed_iqbal_died_sh" platform="highweb"/></link>

جاوید اپنے والد کی دوسری اہلیہ سردار بیگم سے تھے اور والد کے بھی خوب لاڈلے تھے
،تصویر کا کیپشنجاوید اپنے والد کی دوسری اہلیہ سردار بیگم سے تھے اور والد کے بھی خوب لاڈلے تھے

جاوید اقبال بھی اگرچہ ایک عرصے تک بطور فرزندِ اقبال ہی پہچانے گئے مگر پچھلے 40 برس میں انھوں نے اپنی علیحدہ شناخت بنائی اور آج (تین اکتوبر) کو 91 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو محض فرزندِ اقبال نہیں ممتاز قانون دان ، محقق اور فلاسفر جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال رخصت ہوئے ہیں۔

جاوید اپنے والد کی دوسری اہلیہ سردار بیگم سے تھے اور والد کے بھی خوب لاڈلے تھے۔انھیں پہلی شہرت اقبال کی تیرہ بند پر مشتمل نظم ’خطاب بہ جاوید‘ سے ملی جس میں علامہ اپنے فرزند کے توسط سے مسلم نوجوانوں سے مخاطب ہیں اور ان کی توجہ احساسِ زیاں اور روشن امکانات کی جانب مبذول کر رہے ہیں۔ اس طویل فارسی نظم میں ایک استہفامیہ شعر کچھ یوں ہے ،

صاحبِ قرآن و بے ذوقِ طلب !

العجب ، ثم العجب ، ثم العجب

( صاحبِ قرآن ہوتے ہوئے بھی ذوقِ طلب سے عاری ہو؟ تعجب ہے )۔

علامہ کا انتقال ہوا تو جاوید اقبال چودہ برس کے تھے۔ مگر باپ کی طرح دھیان تعلیم و فکری جلا پر ہی مرکوز رہا۔انیس سو چوون میں کیمبرج یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ اور دو برس بعد لنکنز انز سے بیرسٹری کی ۔پریکٹس بھی کی ، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی تین بار وفد کی سطح پر سفارتی نمائندگی بھی کی۔

والد کی طرح مختصر عرصے کے لیے سیاست میں بھی سرگرم رہے مگر جب انیس سو ستر میں لاہور میں اپنے آبائی علاقے کے حلقہ این ڈبلیو ساٹھ لاہور تین میں دور دراز سے آنے والے ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں بطور کونسل مسلم لیگ ( دولتانہ ) امیدوار ڈاکٹر صاحب نے بھٹو صاحب کے اٹھہتر ہزار ایک سو بتیس ووٹوں کے مقابلے میں تینتیس ہزار نو سو اکیس ووٹ حاصل کیے تو اس کے بعد کبھی الیکشن نہ لڑا ۔البتہ بہت عرصے بعد سینیٹ کے لیے ایک بار ضرور منتخب ہوئے ۔

ڈاکٹر صاحب ضیا الحق کے دور میں انیس سو بیاسی تا چھیاسی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے جج بھی رہے۔ان کی شریکِ حیات ( ناصرہ اقبال ) بھی قانون کے شعبے سے ہیں اور وہ بھی ہائی کورٹ کی معروف جج رہیں۔

لیکن آبائی ڈی این اے کی نسبت سے ڈاکٹر صاحب کا دل تصنیف و تالیف میں زیادہ لگا۔اندرونِ و بیرون ملک قانون اور مذہب کی فلاسفی پر لیکچرز ، پاکستانی قوم پرستی کی تشریحات اور سب سے بڑہ کر اقبالیات۔

ڈاکٹر صاحب اقبال کے نظریہِ قومیت کی سرکاری تشریح سے خوش نہیں تھے
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر صاحب اقبال کے نظریہِ قومیت کی سرکاری تشریح سے خوش نہیں تھے

انھوں نے اقبال پر مقالات کا مجموعہ ’مئے لالہ فام‘ کے نام سے مرتب کیا۔’زندہ رود‘ کے نام سے تین جلدوں میں اقبال کی شخصیت و زندگی قلمبند کی۔ دیگر تصنیفات میں افکارِ اقبال ، خطباتِ اقبال ، نظریہ پاکستان ، قائدِ اعظم کی میراث ، پاکستان اور اسلامی لبرل تحریک ، اسلام اور پاکستانی شناخت ، اسلام کا تصورِ سیاست ، ڈراموں افسانوں اور مقالوں کا مجموعہ ’جہانِ جاوید‘ اور ’اپنا گریباں چاک‘ کے نام سے آپ بیتی ۔

ڈاکٹر صاحب اقبال کے نظریہِ قومیت کی سرکاری تشریح سے خوش نہیں تھے اور انھوں نے متعدد انٹرویوز میں وضاحت بھی کی کہ اقبال دراصل ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی خود مختاری سے کیا مراد لیتے تھے ۔تاہم اقبال چونکہ ہمیشہ سے نینشنلائیزڈ ہیں لہذا ڈاکٹر صاحب کی وضاحتوں کے باوجود تعلیمی نصاب میں اقبال کی سوچ کے نام پر جو کچھ بھی شامل ہے وہ آج بھی جوں کا توں ہے۔سال ِگذشتہ مغربی بنگال کی حکومت نے جشنِ اقبال میں بھی مدعو کیا ۔تاہم خرابیِ صحت کے سبب نہ جا سکے البتہ صاحبزادے ولید اقبال نے ان کی نمائندگی کی۔

ڈاکٹر جاوید اقبال کی رحلت سے علم و تحقیق و قانونی مہارت و وضع داری کا ایک باب مکمل ہوا۔