بلدیاتی انتخابات سے قبل کسان پیکج: حکومت سے وضاحت طلب

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے کسانوں کے لیے اعلان کردہ ریلیف پیکج پر سیکریٹری اطلاعات اور سیکریٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی سے وضاحت طلب کی ہے۔
حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے دونوں بڑے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے پہلے وزیر اعظم کی طرف سے کسانوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے۔
ان دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ اگلے ماہ شروع ہو رہا ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کے مطابق بلدیاتی انتخابات سے پہلے کسانوں کے لیے امدادی پیکج کے اشتہار مختلف ٹی وی چینل کے علاوہ اس کی تفصیلات اخبارات میں بھی دی جارہی ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اشتہار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ان سیکریٹری صاحبان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُنھیں طلب کیا گیا ہے تاکہ وہ الیکشن کمیشن کے حکام کو مطمئین کرسکیں کہ یہ اشتہار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نے چند روز قبل ملک بھر کے کسانوں کے لیے تین سو چالیس ارب روپے سے زائد مراعاتی پیکج کا اعلان کیا تھا اور یہ مراعاتی پیکج چار حصوں پر مشتمل ہے جس میں زرعی مشینری کی درآمد اور کھاد کی قیمتوں میں کمی بھی شامل ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام ٹی چینلز پر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کو یکساں کوریج کو یقینی بنائیں اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کسی میڈیا گروپ کا کسی ایک مخصوص جماعت کی طرف جھکاو نہ ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن کمیشن نے لاہور اور لودھراں میں اگلے ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت سمیت اُن تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے سے روک دیا ہے جو ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔
حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمی عمران خان نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ ان حلقوں میں پولنگ 11 اکتوبر کو ہوگی۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو چار اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے سامنے یا ریڈ زرون میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔







