’ برفباری کی وجہ سے تلاش ختم، ماہرین کی ٹیم واپس بلا لی گئی‘

- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کی مہم کے دوران کئی دن قبل لاپتہ ہونے والے پانچ پاکستانی کوہ پیماؤں کی تلاش روک دی گئی ہے۔
پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کا کہنا ہے کہ علاقے میں موسم خراب ہو گیا ہے اور برفباری شروع ہو گئی ہے، اس لیے تلاش کا عمل جاری رکھنا مشکل ہے۔
الپائن کلب کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ماہر کوہ پیماؤں پر مشتمل نو رکنی ٹیم وادی نیلم روانہ ہوئی تھی لیکن برف باری اور شدید موسم کی وجہ سے تلاش کا کام روک دیا گیا۔
پانچ کوہ پیماؤں پر مشتمل یہ گروپ اگست میں وادی نیلم میں سراں والی چوٹی کو سر کرنے کے لیے اسلام آباد سے روانہ ہوا تھا لیکن 31 اگست کے بعد سے لاپتہ ہو گیا۔
ان کوہ پیماؤں میں عمران جنیدی، عثمان طارق اور خرم راجپوت، علی طارق اور اویس خٹک اپنے دو گائیڈوں کے ہمراہ آئی بیکس کلب کے تحت روانہ ہوئے تھے اور کیمپ ون تک بحفاظت پہنچ گئے لیکن اس سے آگے جانے کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے اور تاحال اُن کا سراغ نہیں ملا۔
کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کے مطابق ان افراد کے زندہ ہونے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الپائن کلب کے اہلکار نے بتایا کہ ’ان پانچوں افراد کا برفیلی چوٹی سر کرنے کا یہ پہلا تجربہ ہے اور اس سے قبل انھوں نے صرف راک کلائمنگ کی تھی۔‘
انھوں نے بتایا کہ تلاش کے لیے روانہ کی گئی نو رکنی ٹیم میں ایورسٹ سر کرنے والے کوہ پیما حسن سدپارہ بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ممکنہ طور پر یہ افراد برفانی تودے کی زد میں آ گئے ہیں یا پھر برف میں دراڑ پڑنے سے حادثے کا شکار ہو گئے ہیں۔
الپائن کلب کے مطابق سرچ ٹیم کے واپس اسلام آباد پہچنے کے بعد حادثے کی ممکنہ تفصیلات جاری کی جائیں گی۔







