پاکستانی کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی پر

حسن پاکستان میں واقع آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیاں سر کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحسن پاکستان میں واقع آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیاں سر کر چکے ہیں

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما حسن سدپارہ دنیا کا سب سے بلند پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے دوسرے پاکستانی بن گئے ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان کے صدر منظور حسین کے مطابق وہ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر بلند پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے۔

بی بی سی اردو کی عنبر شمسی سے بات کرتے ہوئے منظور حسین کا کہنا تھا کہ ’حسن پہاڑ پر جنوبی راستے سے چڑھے اور انہیں بیس کیمپ سے چوٹی تک پہنچنے میں تین دن لگے۔ وہ آج صبح ساڑھے سات بجے چوٹی پر تھے اور اب وہ کیمپ فور میں پہنچ چکے ہیں اور کل شام تک بیس کیمپ پہنچ جائیں گے‘۔

منظور حسین کے مطابق حسن سدپارہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے جانے والی الپائن کلب آف پاکستان کی مہم کے رکن ہیں اور اس جہاں اس مہم کے لیے حکومتِ پاکستان نے رقم فراہم کی وہیں تمام تکنیکی سہولیات الپائن کلب کی جانب سے دی گئی ہیں۔

سنہ 2000 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما نذیر صابر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’حسن جس راستے سے چوٹی تک پہنچے ہیں اس راستے میں سب سے مشکل اور انتہائی ڈھلوان کھمبوگلیشیئر ہے۔ میرے تجربے میں کھمبو آئس فال سب سے ڈھلوان سطح والا اور ایکٹو گلیشیئر ہے، جو ٹوٹتا رہتا ہے اور اس کے نیچے بہت گہری کھائیاں ہیں اور یہ گلیشیئر پینتیس کوہ پیماؤں کی جانیں لے چکا ہے‘۔

اڑتالیس سالہ حسن سدپارہ کا تعلق سکردو سے کچھ فاصلے پر واقع سدپارہ گاؤں سے ہے اور انہوں نے کوہ پیمائی کا آغاز انیس سو چورانوے میں کیا تھا اور سنہ 2007 تک انہوں نے پاکستان میں واقع آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیاں آکسیجن کی مدد کے بغیر سر کر لی تھیں۔

حسن سدپارہ نے سنہ انیس سو چورانوے میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو، سنہ ننانوے میں قاتل پہاڑ کے نام سے پہچانے جانے والے نانگا پربت، سنہ 2006 میں گیشا برم ون اور گیشا برم ٹو جبکہ 2007 میں ’براڈ پیک‘ کو سر کیا۔

کوہ پیمائی میں اعلٰی کارکردگی پر حکومتِ پاکستان نے حسن سدپارہ کو سنہ 2008 میں تمغۂ حسن ِ کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔

دو ہزار سات میں براڈ پیک سر کرنے کے بعد، حسن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’اگر مجھے تعاون حاصل ہو تو میں فخر سے اپنا جھنڈا ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک لے کر جاؤں‘۔ اور اب چار سال بعد حسن سدپارہ کا یہ خواب پورا ہوگیا ہے۔