’عدالتی طریقۂ کار کو مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے‘

ریاست نے علی نواز شاہ کو جائیداد کے عوص رقم فراہم کی تھی: سابق صدر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنریاست نے علی نواز شاہ کو جائیداد کے عوص رقم فراہم کی تھی: سابق صدر
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے عدالتی طریقۂ کار کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے یہ بات قومی احتساب عدالت کی طرف سے اپنی جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی سید علی نواز شاہ کو سزا دیے جانے پر اپنا ردعمل میں کہی ہے۔

جمعہ کے روز پیپلز سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں پاکستان کے سابق صدر نے وفاقی اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ ’اس دلدل میں نہ جائیں جہاں سے اُن کے لیے نکلنا مشکل ہو۔‘

اس سے پہلے صوبہ سندھ میں وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے یعنی قومی احتساب بیورو، ایف آئی اے اور رینجرز کی طرف سے مختلف صوبائی محکموں میں چھاپوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ جس مقدمے میں سندھ اسمبلی کے رکن علی نواز شاہ کو قومی احتساب بیورو کی کراچی کی عدالت نے سزا سنائی ہے اس میں ریاست نے اُنھیں جائیداد کے عوض رقم فراہم کی تھی۔

آصف علی زردرای نے کہا کہ جس طرح اس مقدمے کا ٹرائل کیاگیا اور پندرہ سال کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا تو اس سے اس مقدمے کے منصفانہ ٹرائل سے متعلق بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین کی شق اے کے تحت ہر ملزم کو ’فیئر ٹرائل‘ کا حق دیا گیا ہے۔

جمعرات کو وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے نیشنل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے وفاقی اداروں کی صوبائی محکموں میں مداخلت کے بارے وزیر اعظم کو آگاہ کیا اور کہا کہ وفاقی ادارے کارروائی کرنے سے پہلے اُنھیں آگاہ نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ رینجرز کی طرف سے سابق وفاقی وزیر عاصم حسین کی گرفتاری پر صوبے کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت پر شدت پسندوں کے ساتھ روابط قائم کرنے کا الزام ناقابل برداشت ہے۔

عاصم حسین ان دنوں نوے روز کے جسمانی ریمانڈ پر رینجرز کی تحویل میں ہیں۔