فوج کی حمایت میں بیان، زرداری سے ملاقات سے انکار

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے بدھ کو ایک طرف تو فوج پر تنقید کرنے کو ایک منفی قدام قرار دیا ہے تو دوسری طرف انھوں نے آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق میاں نواز شریف نے بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک سیاسی مشاورتی اجلاس کے بعد کہا کہ ملک کی مسلح افواج پر تنقید ان عناصر کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے موقعے پر آیا ہے جب ملک میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے منگل کو ایک تقریر میں پاکستانی فوج کے جرنیلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ملاقات موخر کرنا مناسب ہے
ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی نے خبر دی کہ وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان بدھ کو ہونے والی ملاقات ملتوی ہوگئی ہے۔
بعد ازاں وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’کل کی پریس کانفرنس کے بعد جو ماحول پیدا ہوا تھا مناسب یہی ہے کہ ’یہ ملاقات موخر کر دی جائے تاکہ جو دل آزادی کا سبب بنا ہے وہ ختم ہو سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری سینیئر سیاست دان ہیں، بڑے عہدوں پر فائز رہنے والوں کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں۔
’اگر وہ کسی بھی طور پر اس کا مداوا کریں گے تو یہ پاکستان میں پاکستانیوں کے لیے بھی اچھی خبر ہو گی اور پاکستان کو جو چیلینجز درپیش ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جس یکجہتی کی ضرورت ہے اسے بھی تقویت ملے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس نازک مرحلے پر، جب دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری ہے، قومی سطح پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلح افواج پر تنقید کی جائے گی تو اس سے ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی جو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے تعمیر و ترقی کے عمل میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے پاکستانی جمہوریت کو مضبوط کیا ہے اور سیاسی استحکام اور قومی اتفاق رائے کے ساتھ ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج کے افسر اور جوان آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے موثر کردار ادا کر رہے ہیں اور انھیں پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔
آصف زرداری کے بیانات پر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی فوج ہماری بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، آصف زرداری کی جانب سے جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ ایک سابق صدر کو زیب نہیں دیتی۔
وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو سندھ میں اپنی جماعت کی حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے اور کراچی میں امن کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ انھیں اسی صوبے کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔
خیال رہے کہ آصف زرداری نے منگل کو اپنی جماعت کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اُنھیں دیوار سے لگانے اور ان کی کردار کشی کرنے کی روش ترک نہ کی گئی تو وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کے جرنیلوں کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے کہ وہ (فوجی جرنیل) وضاحتیں دیتے پھریں گے۔
آصف علی زرداری نے فوجی قیادت کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ وہ تو تین سال کے لیے آئے ہیں اور پھر چلے جائیں گے جبکہ اُنھوں (سیاست دانوں) نے ساری عمر پاکستان میں رہنا ہے۔







