’کسی اتحادی جماعت نے بیان واپس لینے کا نہیں کہا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان پیپلز پارٹی مطابق پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب دیے جانے والے افطار ڈنر میں شرکت کرنے والی کسی اتحادی جماعت نے سابق صدر کے بیان کو واپس لینے کے لیے نہیں کہا۔
جمعے کی شب افطار ڈنر کی دعوت میں عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، جمعیت علمائے اسلام ف اور مسلم لیگ ق شریک ہوئیں۔
خیال رہے کہ آصف علی زرداری نے رواں ہفتے ایک خطاب میں پاکستانی فوج پر تنقید کی تھی جس کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اس پر اپنے ردعمل میں نہ صرف اسے نامناسب قرار دیا بلکہ سابق صدر سے ہونے والی ملاقات بھی ملتوی کر دی تھی۔
افطار ڈنر کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیریں رحمٰن اور قمر الزامان کائرہ نےافطار ڈنر کے بعد ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے سے آگاہ کیا۔
شیریں رحمٰن نے بتایا سابق صدر زرداری کی تقریر کے حوالے سے ہونے والے مغالطے پر بھی بات چیت سمیت بہت سے امور پر زیرِ غور آئے۔
’جو ملک کے حالات ہیں خاص طور پر نیشنل ایکشن پلان، ضربِ عضب کی کامیابی، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کی کامیابی، جو اس وقت میڈیا میں جو مغالطہ چل رہا ہے، زرداری صاحب کی تقریر کے حوالے سے ۔۔۔۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی وضاحت کر چکی ہے کہ تقریر کا متن کیا تھا اور مقصد کیا تھا۔
’اجلاس میں تمام اتحادیوں نے اتفاق کیا کہ تقریر میں ضربِ عضب کی تعریف کی گئی ہے، فوجی سپہ سالار کو نہ صرف مبارک دی بلکہ جنرل راحیل شریف کو پیپلز پارٹی مدبرانہ نظر سے دیکھتی ہے۔‘
شیریں رحمٰن کا کہنا تھا کہ تقریر میں سابق جنرلز کی بات کی گئی تھی۔
’ان ڈکٹرٹرز اور جرنیلوں کی بات کر رہے ہیں جنھوں نے خود آمریت کے دور چلائے ہیں اور اب سیاسی منظرِ عام پر آنا چاہتے ہیں۔‘
اس موقع پر قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ اجلاس میں اتفاق ہوا ہے کہ صدر زرداری کے مفاہمانہ رویے کو جاری رکھنا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو جو اختیارات دیے گئے ہیں انھیں ان کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ایک متعین شدہ لائن ہے۔’ہم نے 18ویں ترمیم میں بہت سے معاملات کو حل کیا ہے اگر کوئی ادارہ ایک قدم آگے نکل جاتا ہے تو ایک دوسرے کو سمجھا کر ہم نے اسے حل کرنا ہے۔‘
قمرالزمان کائرہ نے ایک سوال کے جواب میں اس خبر کی تردید کی کہ سابق صدر کو حال ہی میں فوج کے حوالے سے دیا گیا اپنا بیان واپس لینے کو کہا گیا ہے۔
’ایسا کچھ نہیں ہے، نہ بیان پر کسی کو کوئی اعتراض ہے، بیان کو دیکھا گیا اس پر باتیں ہوئی ہیں، بشمول ہمارے سب نے اتفاقِ رائے سے کہا ہے زرداری صاحب کو اپنا مفاہمانہ رویہ ) باوجود میڈیا ہائپ کے جاری رکھنا چاہیے۔‘
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے دونوں رہنماؤوں نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ ان کی جماعت کے تمام رہنما آصف علی زرداری کے بیان پر متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیان ایک خاص تناظر میں تھا وہ تمام جماعت کی سوچ ہے۔
قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ آصف علی زرداری کے لہجے میں تلخی ایسے ہی نہیں آئی لیکن ہم پھر بھی سمجھتے ہیں سب دوستوں نے بھی کہا کہ جو بھی صورتحال ہو ’آپ کو اپنا نرم رویہ جاری رکھنا چاہیے۔‘
دعوت نامے کا معمہ
جماعتِ اسلامی کو دعوت نہیں دی گئی تھی تاہم جب پارٹی سربراہ سینیٹر سراج الحق کے نمبر پر رابطہ کیا گیا تو ان کے ذاتی معاون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سراج الحق صاحب افطار پارٹی میں پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث شرکت نہیں کر پائیں گے، پارٹی میں سے کوئی اور لیڈر جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔‘
اسی طرح حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما صدیق الفاروق نے بتایا تھا کہ کم ہی امکان ہے کہ ان کی جماعت کا کوئی سینیئر رہنما اس دعوت میں شریک ہو۔ ’اگر شرکت ہوئی بھی تو جونیئر لیول پر ہو گی۔‘
جمعیت علمائے اسلام ف کے ترجمان جان اچکزئی نے افطار سے قبل تو تصدیق کی کہ دعوت نامہ ملا ہے، بس فیصلے کا انتظار ہے لیکن افطار کے بعد انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ نہیں مولانا فضل الرحمٰن کو دعوت نامہ ہی نہیں ملا تھا۔
سندھ کی اہم جماعت ایم کیو ایم کے وفد نے افطار پارٹی میں شرکت کی۔جماعت کے رہنما سینیٹر طاہر مشہدی نے جمعے کی صبح بی بی سی سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’زرداری صاحب نے بلایا ہے ہم کیوں نہ جائیں، مسلمانوں کا فرض ہے، کھانا اچھا کھلاتے ہیں۔‘
عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سینیئر رہنما میاں افتخار حسین کی سربراہی میں پارٹی وفد نے زرداری ہاؤس پہنچا۔ مسلم لیگ ق کی جانب سے چوہدری شجاعت حسین سمیت پارٹی رہنماؤں کا وفد دعوت میں شریک ہوا۔
سابق صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے میڈیا بیان میں کہا ہے کہ افطار ڈنر کی دعوت صرف تین جماعتوں کو دی گئی تھی اور انھوں نے اس میں شرکت بھی کی۔







