بلاول اور جیالوں میں اجنبیت کی بڑی دیوار حائل

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بالآخر پنجاب میں دم توڑتی پارٹی کو فعال اور متحرک بنانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی ہے۔
پارٹی کی قیادت سنھبالنے کے بعد بلاول بھٹو زرداری پہلی بار پارٹی امور سنبھالنے کے لیے لاہور آ کر بیٹھ گئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری پانچ ستمبر کو خصوصی طیارے کے ذریعے بختاور بھٹو زرداری کے ہمراہ لاہور پہنچے تھے۔
بلاول اور بختاور کی آمد کے دوسرے دن چھ ستمبر کو ملک کے یومِ دفاع کے حوالے سے بلاول ہاؤس میں پرچم کشائی کی گئی۔
دونوں نے سات ستمبر سے جنوبی پنجاب کے عہدیداروں، ایگزیکٹو کونسل کے ارکان، اضلاع کے صدور اور سیکریٹریز کے الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کی۔ ان کی آمد کے چوتھے دن ان کی پھوپھی فریال تالپور بھی لاہور پہنچ گئیں۔
بلاول بھٹو کی لاہور آمد کے بعد پارٹی کے عام کارکنوں کے لیے صورتِ حال جوں کی توں ہے۔
بلاول ہاؤس میں بے نظیر کے صاحبزادے کے درشن صرف اسی جیالے کو نصیب ہو سکتے ہیں جس کا نام پہلے سے فہرست میں موجود ہوگا یا پارٹی کے صوبائی رہنما یا پھر بلاول ہاؤس کے انتظامات چلانے والے بلاول بھٹو کے قریبی لوگ جن کو ملانا چاہیں گے وہی مل سکیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو کی لاہور آمد کے باوجود بلاول ہاؤس کے سامنے جیالوں کا کوئی ٹولا نظر نہیں آتا لیکن اگر کوئی اپنی مرحومہ قائد کے صاحبزادے کی جھلک دیکھنے شہر سے 30 کلو میٹر دور واقع بلاول ہاؤس میں آ بھی جاتا ہے تب بھی سکیورٹی پر مامور عملہ انھیں ملنے والوں کی فہرست میں نام شامل نہ ہونے کی بنا پر بلاول ہاؤس سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلاول ہاؤس لاہور کی سکیورٹی کے انتظامات بھی سندھ کے ایس ایس یو کمانڈوز اور نواب شاہ کے نجی سکیورٹی گارڈز کے پاس ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلاول ہاؤس اور لاہور کے جیالوں کے درمیان اجنبیت کی بہت بڑی دیوار حائل ہے۔
سندھ پولیس سپیشل یونٹ کے کمانڈوز اور زرداری برادری کے سکیورٹی گارڈز نہ لاہور کے کسی جیالے کو جانتے ہیں اور نہ ہی ان کے سامنے پارٹی کے کسی بڑے صوبائی لیڈر کی کوئی حیثیت ہے چاہے ان میں پیپلز پارٹی لاہور کے سابق صدر اور بینظیر بھٹو کے بااعتماد ساتھی عزیز الرحمان چن ہی کیوں نہ ہوں، انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ 25 سے 30 سالہ ان سکیورٹی گارڈز کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے رویے سے جن کی رسوائی ہوتی ہے وہ بلاول بھٹو کی والدہ کے لیے کتنے قیمتی جیالے تھے۔
ان سکیورٹی گارڈز کے ساتھ لاہور یا پنجاب کا کوئی جیالا تک موجود نہیں ہوتا جو کم سے کم انھیں پارٹی کے اہم رہنماؤں کے بارے میں کچھ بتا سکے۔
بلاول بھٹو زرداری لاہور شہر اور عوام سے دور ایک قلعے نما محل کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر اس پیپلز پارٹی کو متحرک کرنے کی باتیں کر رہے ہیں جس پارٹی کے بانی اور بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکالا ، سیاست کو امرا کے مشغلے سے بدل کر عوامی رنگ دیا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں راجہ پرویز اشرف اور ندیم افضل چن کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کو کرپشن کے خلاف اپنی پالیسی گائیڈ لائن دی ہے۔

ان کے مطابق بلاول نے سب پر واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر کرپٹ عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا چاہے وہ کرپشن حکومتی سطح پر ہو یا تنظیمی سطح پر ہو۔
پارٹی رہنماوں کے مطابق بلاول بھٹو ملکی سیاسی امور پر کم لیکن تنظیمی امور پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ وہ سیاسی مخالفین کو للکارنے کی بجائے پارٹی کو متحرک کرنا چاہتے ہیں اور پارٹی سے کرپٹ عناصر کا خاتمہ ان کی پالیسی کا مرکزی نقطہ ہے۔
اگر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے یہ دعوے درست ہیں تو یقیناً بلاول بھٹو زرداری نے ایک مشکل ٹاسک لے لیا ہے۔ کیونکہ 30 سالوں سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کرتی پیپلز پارٹی سے یہ داغ دھونا شاید اتنا آسان نہیں ہوگا۔
ان حالات میں پنجاب میں بلاول کا یہ نعرہ کتنا اور کس طرح قابل قبول ہوگا یہی بلاول بھٹو کا اصل امتحان ہوگا اور شاید اسی سے پیپلز پارٹی کو دوبارہ پنجاب میں عروج ملنے کے راستے نکل سکے۔







