بلاول بھٹو کی گڑھی خدا بخش میں غیرموجودگی پر سوال

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ساتویں برسی پر ان کے بیٹے بلاول بھٹو کی شرکت مشکوک ہے اور پارٹی کے اندر میں اس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کئی روز سے جاری ان قیاس آرائیوں کی تردید کر چکے ہیں کہ بلاول بھٹو اپنے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ناراض ہو کر لندن چلے گئے ہیں اور انھوں نے پاکستان واپسی سے انکار کر دیا ہے۔
ان قیاس آرائیوں میں اس وقت بھی شدت آئی جب بلاول نے کراچی میں اپنی تقریر میں اعلان کرنے کے باوجود لاہور میں پارٹی کے یوم تاسیس میں شرکت نہیں کی اور اس کے بعد جب سابق صدر لندن گئے تو خبریں سامنے آئیں کہ وہ اپنے بیٹے کو 27 دسمبر کو اپنی والدہ کی برسی کی تقریب میں شرکت پر رضامند کر سکیں۔
بلاول بھٹو کی جانب سے گڑھی خدا بخش میں برسی میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ سے تصدیق کرنے کے لیے متعدد رہنماؤں کو فون کیا گیا لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔
تاہم پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے ایس ایم ایس کے ذریعے جواب میں کہا ’(اس بارے میں) کوئی بیان نہیں دے سکتی۔‘
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کو مانے آصف علی زرداری لندن گئے تھے لیکن بلاول نے آنے سے انکار کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلاول بیمار نہیں ہیں اور یہ باپ اور بیٹے کے اختلافات کی وجہ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر برسی کی تقریب میں شرکت کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ انھوں نے اپنی اور اپنے والد کی ایک ساتھ ایک تصویر لگائی ہے جسے پیپلز پارٹی نے کچھ اس طرح بیان کیا کہ یہ باپ بیٹے میں اختلافات کی خبریں اڑانے والوں کے لیے واضح پیغام ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ بلاول نے 30 نومبر کو پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی۔ اس موقعے پر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بلاول نے لکھا تھا کہ ’میرے پرزور اصرار کے باوجود ڈاکٹرز نے مجھے وقتی طور پر جانے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ آپ پارٹی کارکنان ہماری رہنمائی کرتے رہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
صحافی اور تجزیہ نگار راشد رحمان کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کی برسی پر بلاول بھٹو کی شرکت نہ کرنے سے پیپلز پارٹی کو بہت نقصان ہو گا۔
انھوں نے کہا ’بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کا سیاسی کلچر یہ ہے کہ یا تو بھٹو ہو یا پھر بھٹو کے قریب ہو اسی کی بات سنی جاتی ہے۔‘
’لیکن اپنے آپ کو چھبیس سالہ بلاول کی جگہ رکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ جس طرح پیپلز پارٹی کو آصف علی زرداری نے چلایا ہے کیا آپ اس حالت میں جماعت کی قیادت کرنا چاہیں گے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ بلاول نے جماعت کی ازسرِ نو تشکیل کی کوشش کی جس کی اجازت آصف علی زرداری نے انھیں دی۔
’لیکن کچھ مکے لہرا کر اور بیانات دے کر بلاول نے بینظیر بھٹو کی مصالحت کی سیاست کے چیتھڑے کر دیے۔ انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ کو بھی مخالف کرلیا اور مسلم لیگ نواز کو بھی اور شائد ہی کوئی ایسی جماعت بچی ہو جس کو اپنے خلاف نہ کروایا ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں آصف علی زرداری کی یہ سوچ ہے کہ بلاول کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے وقت کی نزاکت اور تقاضے نہیں سمجھ رہے اور ایڈونچرزم کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ’اسی وجہ سے بلاول کو سرگرم سیاست سے علیحدہ کیا ہے۔‘
مبصرین کا خیال ہے کہ بلاول اگر ساتویں برسی کے موقعے پر نہیں آتے تو باپ اور بیٹے کے اختلافات کھل کر سامنے آ جائیں گے اور اس سے جماعت جو 2013 کے انتخابات میں سندھ کی جماعت تک محدود ہو گئی ہے وہ واقعتاً صوبائی جماعت بن کر رہ جائے گی۔







