خیبر ایجنسی میں حکومتی امن کمیٹی کے چار رضاکار ہلاک

خیبر ایجنسی میں فوج کی جانب سے حال ہی آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو کے اختتام کا اعلان کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں فوج کی جانب سے حال ہی آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو کے اختتام کا اعلان کیا گیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ دور افتادہ پہاڑی علاقے وادی تیراہ سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایجنسی کی دور افتادہ پہاڑی علاقے وادی تیراہ سے پیر کی صبح چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق زخہ خیل قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد حکومتی حامی امن کمیٹی توحید الاسلام سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مذکورہ افراد کو اتوار کے روز وادی تیراہ سے باڑہ آتے ہوئے راستے میں شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کی جانب سے اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

مقامی افراد کے مطابق مرنے والے افراد کی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مرنے والے افراد کی لاشیں ان کے ورثا کو حوالے کرنے کے ضمن میں قبائلی مشران پر مشتمل ایک جرگہ جاری ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں ایک عرصہ سے حکومتی حامی لشکروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں توحید الاسلام کی جانب سے بھی لشکر اسلام کے شدت پسندوں پر متعدد مرتبہ حملے کیے گئے ہیں، جبکہ کئی جنگجوؤں کو دن دہاڑے بازاروں میں بھی قتل کیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی میں فوج کی جانب سے حال ہی آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو کے اختتام کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان کارروائیوں کے بعد ایجنسی کے بیشتر مقامات پر تشدد کے واقعات میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

حکومت نے خیبر ایجنسی سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کا عمل بھی شروع کیا ہے، جس کے تحت کئی خاندان واپس اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ چکے ہیں۔ تاہم اب بھی لاکھوں متاثرین پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طورپر کرائے کے مکانات میں بدستور پناہ گزین ہیں۔