کراچی میں نامعلوم افراد کے حملے میں ٹریفک پولیس کے دو اہلکار ہلاک

 رواں سال کے دوارن نامعلوم افراد کے حملوں میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تعداد 65 ہوگئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن رواں سال کے دوارن نامعلوم افراد کے حملوں میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تعداد 65 ہوگئی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس پر نامعلوم افراد کے حملوں میں ٹریفک پولیس کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ تین ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ رواں سال کے دوارن نامعلوم افراد کے حملوں میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تعداد 65 ہوگئی ہے۔

گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب پولیس اہلکاروں پر حملے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ گلشن اقبال پولیس کے مطابق اتوار بازار پر ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل محمد شیر اور کانسٹیبل نظام الدین ہلاک ہوگئے دونوں کا تعلق نیپا ٹریفک پولیس سیکشن سے تھا۔ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور پولیس حکام کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔

دریں اثنا کورنگی عوامی کالونی میں پولیس کی گشتی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ ایس ایس پی جاوید جسکانی کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا ہے جس سے ایک ایس ایم جی برآمد ہوئی ہے۔

اس سے پہلے دوپہر کو لیاقت آباد میں سندھی ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ڈی ایس پی وجاہت حسین کے مطابق تین ملزمان نے چیکنگ میں مصروف پولیس موبائل پر فائرنگ کی۔ جس کے بعد جوابی فائرنگ میں جنید اسلم، خرم منیر اور امتیاز کو گرفتار کرلیا گیا۔

یاد رہے کہ شہر میں گذشتہ دو سالوں سے جاری ٹارگیٹ آپریشن کے دوران نامعلوم حملہ آور پولیس اور رینجرز کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ صرف رواں سال کے دوارن نامعلوم حملہ آوروں نے 65 پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔

پولیس نے آپریشن کے دوران متعدد ملزمان گرفتار کیے ہیں۔ ان ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کر کے ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔