الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کو جوابدہ نہیں: عمران خان کو جواب

اگر ریٹرنگ افسران کے الیکشن پر اثر انداز ہونے سے متعلق شواہد ہیں تو اُنھیں سامنے لایا جائے، محض سنی سنائی باتوں پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی: الیکشن کمیشن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر ریٹرنگ افسران کے الیکشن پر اثر انداز ہونے سے متعلق شواہد ہیں تو اُنھیں سامنے لایا جائے، محض سنی سنائی باتوں پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی: الیکشن کمیشن
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں ریٹرنگ افسران کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ کسی سیاسی جماعت کو جواب دہ نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کی طرف سے دیے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے معاملات میں کسی سیاسی جماعت کو مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔

ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے جواب کے بعد سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے سابق چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں الیکشن کے دوران ریٹرنگ افسران کی طرف سے کی جانے والی کوتاہیوں کا ذکر کیا تھا۔

عدالتی کمیشن کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے الیکشن کمیشن کو ان ریٹرنگ افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا تھا۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن سے کوئی اعلیٰ اتھارٹی ہی جواب طلب کر سکتی ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن سے وضاحت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جواب میں عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن سے متعلق اُن کا لب و لہجہ افسوس ناک ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی کمیشن کی طرف سے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں جن کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ان ریٹرنگ افسران کے بارے میں الیکشن پر اثرانداز ہونے سے متعلق کوئی شواہد ہیں تو اُنھیں سامنے لایا جائےمحض سنی سنائی باتوں پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

’دھرنے کے سوا چارہ نہیں ہو گا‘

عمران خان نے الیکشن کمیشن کو دو ہفتوں کے دوران اس خط کا جواب نہ دینے پر کمیشن کے سامنے دھرنا دینے کا بھی اعلان کر رکھا تھا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جواب موصول ہونے کے بعد عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔

کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت دیگر 21 جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد حکومت سے ملاقات کرے گی اور اُن پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔

عمران خان نے الیکشن کمیشن کو دو ہفتوں کے اندر خط کا جواب نہ دینے پر کمیشن کے سامنے دھرنا دینے کا بھی اعلان کر رکھا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے الیکشن کمیشن کو دو ہفتوں کے اندر خط کا جواب نہ دینے پر کمیشن کے سامنے دھرنا دینے کا بھی اعلان کر رکھا تھا

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی الیکشن کمشنر سنہ 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی میں ملوث تھے۔

عمران خان نے کمیشن کے ارکان نے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف دائر کی گئی 80 فیصد سے زائد پیٹیشن کو مسترد کر دیا۔

عمرا ن خان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے خلاف ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے اور اگر اُنھیں کہیں سے انصاف نہ ملا تو پھر اُن کے خلاف احتجاج کرنے اور الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا تھا جسے کمیشن کے حکام نے مسترد کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کے بارے میں بھی غور و خوض کر رہی ہے۔