’کمیشن سے توقعات زیادہ تھیں اس لیے فیصلے پر تکلیف ہوئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن کمیشن سے اُن کی توقعات بہت زیادہ تھیں اسی لیے انھیں اس فیصلے پر ’تکلیف‘ ہوئی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما نے عدالتی کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی پر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ نئے پاکستان کی ابتدا ہے۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے شواہد نہیں ملے ہیں لیکن دھاندلی کی تحقیقات کے لیے تحریک انصاف کا مطالبہ بلا جواز نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ عدالتی کمشین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے تحریکِ انصاف کا مطالبہ ناجائز نہیں تھا۔ عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ نواز سمیت 21 سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا اور کمیشن کی تحقیقات کے ذریعے یہ جاننا چاہتے تھے کہ ’دھاندلی کتنی اور کس کے لیے ہوئی ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ انھوں نے حکومت سے قومی اسمبلی کے چار حلقے کھلوانے کا مطالبہ کیا تھا اور جب اُن کی بات کسی بھی پلیٹ فارم پر نہیں گئی تو انھوں نے دھرنے کا اعلان کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف نے کہا کہ دو سال تک قوم کا وقت ضائع کیا گیا میرے خیال میں قوم میں سیاسی شعور آیا ہے اور معافی مجھے نہیں نواز شریف کو مانگنی چاہیے۔‘
وزیراعظم نواز شریف نے عدالتی کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ’اب بے مقصد تماشوں اور جذباتی اپیلوں کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ عدالتی کمیشن نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی نا اہلی کا ذکر کیا اور کہا کہ جس طریقے سے الیکشن منعقد کروانے تھے الیکشن کمیشن ایسا کرانے میں ناکام رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کے حکام کام کرنے کا اخلاقی جواز کھو بیھٹے ہیں۔ انھوں نے الیکشن کمیشن کے حکام سے مستعفیٰ ہونے کی درخواست کی ہے۔
عمران خان نے کمیشن کی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔’کمیشن نے کام ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ کمیشن کو بتانا چاہیے تھا کہ کتنے فیصد انتخابات قانون کے مطابق ہوئے اور کتنے فیصد نہیں ہوئے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ برس 14 اگست کو انتخابی دھاندلیوں کو بنیاد بنا کر اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا تھا جو تقریباً چار ماہ جاری رہا تھا۔
دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد یہ دھرنا تو ختم کر دیا گیا تھا تاہم پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ جب تک انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا اُس وقت تک ان کی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
رواں برس تین اپریل کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔
ان دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدے میں طے پایا تھا کہ اگر عدالتی کمیشن نے کہا کہ ان انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے تو پھر وزیراعظم قومی اسمبلی تحلیل کردیں گے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں شامل ہوکر موثر کردار ادا کرے گی۔
کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر عمران حان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے عدالتی کمیشن کے قیام کے موقعے پر ہی کہہ دیا تھا کہ وہ عدالت کے ہر فیصلے کو تسلیم کریں گے اس لیے وہ رپورٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔
تاہم انھوں نے اپنے نام سے موجود ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کمیشن کی رپورٹ کے بعد لکھے گئے واحد پیغام میں یہ شکوہ بھی کیا کہ کمیشن تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کی حکومت کی رضامندی کی وجہ سے قائم ہوا۔ اس کیس میں دو جماعتیں تھیں لیکن رپورٹ دونوں ( پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این) کو کیوں نہیں بھجوائی گئی۔







