مارٹر حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر افغانستان سے احتجاج

پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے قریب افغانستان سے دہشت گردوں نے ایک راکٹ فائر کیا۔آئی ایس پی آر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے قریب افغانستان سے دہشت گردوں نے ایک راکٹ فائر کیا۔آئی ایس پی آر
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سرحد پار افغانستان سے کیے جانے والے ایک راکٹ حملے میں فوج کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر کو طلب کر کے اس واقعے پر احتجاج بھی کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان علاقے سے دہشت گردوں نے خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے آخوند درہ میں آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پاکستانی سرحدی چوکی پر راکٹ داغے جس سے فوج کے چار جوان ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس میں دہشت گردوں کے ایک گروہ کو ختم کر دیا گیا تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ مسلح شدت پسندوں کی تعداد کتنی تھی اور ان کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرنے واقعے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی کو طلب کرنے کے بعد سرحد کے پار سے ہونے والے مارٹر حملوں میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سفیر سے کہا گیا کہ وہ اپنی حکومت پر زور دیں کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کروائے اور اس کے نتائج سے حکومتِ پاکستان کو آگاہ کرے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق اس قسم کے واقعات مسلسل کوششوں کے نتیجے میں مثبت سمت میں بڑھنے والے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے لیے نیک شگون نہیں۔

پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور افغانستان کے ساتھ مل کر اس مشترکہ دشمن کے خلاف لڑنے کو تیار ہے لیکن پاکستانی فوج پر حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ افغانستان کے علاقوں سے پاکستانی سرحدی مقامات بالخصوص باجوڑ ایجنسی، مہمند، چترال اور دیر کے اضلاع میں پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ تاہم خیبر ایجنسی میں سرحد پار سے حملوں کے واقعات اس سے پہلے کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔

رواں ماہ ہی پاک افغان سرحد پر لڑائی میں افغان سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور اس واقعے پر افغانستان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

افغان حکومت نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے ان اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ پر وضاحت کرنے کو کہا تھا۔

گذشتہ دنوں کابل میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئے تھے۔ افغان حکومت کے مطابق پاکستان کی طرف سے بعض شدت پسند گروہوں کی اب بھی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان دونوں ہمسایہ ملک اس وقت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرکے امن کی تلاش میں ہیں اور ان کے درمیان تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ابتدا ہی سے عدم اعتماد کا شکار رہے ہیں۔