اپر دیر میں دھماکہ، امن کمیٹی کا ایک رضاکار ہلاک، تین شدید زخمی

سکیورٹی حکام نے امن لشکر کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی حکام نے امن لشکر کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر اپر میں حکام کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والے بم دھماکے میں قومی امن لشکر کا ایک رضاکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

تھانہ شیرینگل کے ایڈیشنل محرر ہمیش گل نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ ڈوگ درہ حاجی آباد کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب قومی امن لشکر کے رضاکار گاڑی میں جارہے تھے کہ سڑک کے کنارے پر نصب بم پھٹ گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں قومی امن لشکر کے ایک رضاکار رحمان ولی ہلاک جبکہ تین رضاکار شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے رضا کاروں کو ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہیں۔

دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ تاہم آخری اطلاعات تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں کچھ عرصے سے امن کمیٹیوں اور قومی لشکر کے ممبران کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہیں جس کے بعد سکیورٹی حکام نے انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی دیر لوئر اور دیر اپر میں امن کمیٹیوں اور قومی لشکر کے رضاکاروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ چند دن پہلے ضلع دیر لوئر کے علاقے سوری پاؤ زیارت کلے میں بھی امن کمیٹی کے ممبر دلاور خان بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔