دیر بالا میں امن لشکر کے چار رضاکار قتل

،تصویر کا ذریعہ
پولیس حکام کے مطابق ضلع دیر اپر میں پاکستان افغانستان کے سرحدی علاقے سوہنی درہ میں جمعے اور ہفتے کے درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے امن لشکر کے ممبر کے گھر پر حملہ کر کے امن لشکر کے چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ ملاکنڈ ایجنسی کے علاقے سخاکوٹ میں پولیس حکام کے مطابق جمعہ اور ہفتے کے درمیانی شب ہونے والے بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اپر دیر میں پیش آنے والے واقعے میں حملہ آوروں نے امن لشکر کے اراکین عبید اللہ، شیر باچا، ماثل اور ناظمین کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔ حملے میں ایک خاتون بخت حوا، اور گاؤں کے دو افراد علیم اور بشیر زخمی بھی ہوگئے ہیں جس کے بعد علاقے کے مقامی لوگ اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
تھانہ شاہی کوٹ کے محرر سراج نے بی بی سی کو بتایا کہ امن لشکر کے رضاکاروں کے گھر پر حملے کے بعد ہونے والے سرچ آپریشن کے دوران خارہ نامی پہاڑی میں دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں دو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ امن لشکر، سیکورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ان کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی لاشوں کو تھانے منتقل کیا جا رہا ہے جس کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند مقامی ہیں یا غیر مقامی۔
واضح رہے کہ اس علاقے میں ماضی میں سرحد پار سے افغان شدت پسندوں نے کئی حملے کر کے امن لشکر کے کئی رضاکاروں کو ہلاک کرنے کے علاوہ پولیس چوکیوں پر بھی حملے کیے ہیں جن میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں متعدد تعلیمی اداروں کو بھی نذر آتش کیا جا چکا ہے۔
ادھر ملاکنڈ ایجنسی میں مقامی پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ بم دھماکے کا واقعہ سخاکوٹ کے علاقے میں ٹیلیفون ایکسچینج کے قریب اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد وہاں سے گزر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق دھماکے میں موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور پولیس کو موٹر سائیکل پر سوار دونوں افراد کے سر ملے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی عمریں پندرہ سال کے قریب بتائی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے واقعے کے بعد جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات شروع کردیں ہیں۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ موٹر سائیکل سوار دونوں نوجوان خودکش بمبار تھے یا واقعہ پہلے سے نصب شدہ بم پٹھنے کے باعث پیش آیا ہے۔
خیال رہے کہ سخاکوٹ کے علاقے غاور کلی میں کچھ عرصہ قبل لیویز چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں دو لیویز اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔







