’ملاکنڈ ڈویژن سے واپس نہیں بلانی چاہیے‘

اپر دیر میں سکیورٹی فورسز پر حملے ہو چکے ہیں تاہم گزشتہ ایک سال سے صورتحال قدرے پرامن ہے
،تصویر کا کیپشناپر دیر میں سکیورٹی فورسز پر حملے ہو چکے ہیں تاہم گزشتہ ایک سال سے صورتحال قدرے پرامن ہے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر دیر میں فوج کے میجر جنرل کے قافلے پر حملے کے بعد اب طالبان سے مذاکرات، علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوجی کی واپسی کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دیر کا علاقہ تقریباً گزشتہ ایک سال سے قدرے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ اس علاقے میں تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن صورتحال اس قدر خراب نہیں ہے کہ کوئی ان علاقوں میں جا بھی نہ سکے۔

اس علاقے میں تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں کے سکیورٹی فورسز کی سرحدی چوکیوں پر حملے شامل ہیں۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر اس علاقے میں صورتحال معمول کے مطابق ہی رہتی ہے۔

مقامی صحافی امجد علی شاہ کے مطابق یہ علاقہ افغان سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں شدت پسندوں کے چند دھڑے کچھ عرصے تک متحرک رہے تھے لیکن ڈیڑھ سالے پہلے فوج کے آنے کے بعد یہ علاقہ کافی حد تک پر امن ہو چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے اپر دیر میں جشن کمراہٹ کے نام پر ایک میلہ بھی سجایا گیا تھا جس میں میجر جنرل ثناء اللہ نیازی بھی شریک ہوئے تھے۔

اپر دیر میں میجر جنرل سمیت تین اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے ہوا ہے جب ایک طرف مرکزی سطح پر طالبان سے مذاکرات کرنے کی بات ہو رہی ہے، دوسری جانب خیبر پحتونخوا حکومت نے سوات اور ملاکنڈ سے فوج واپس بلانے کی منظوری دی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو ہی طالبان نے تقریباً ایک سال پہلے اغوا کیے جانے والے گومل زام ڈیم کے سات اہلکاروں کو رہا کر دیا تھا اور اس سے یہ تاثر ابھر آیا تھا کہ مذاکرات سے پہلے اعتماد سازی کا ماحول بنایا جا رہا ہے لیکن اب اچانک اپر دیر کے اس واقعے سے پھر صورتحال کشیدہ نظر آتی ہے۔

اتوار کو ہی کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی زمہ داری قبول کی اور کہا کہ مذاکرات کی باتیں حکومت کر رہی ہے لیکن اب تک طالبان نے مذاکرات کی دعوت قبول نہیں کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوج کی پیش رفت جاری ہے اور انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے ایسے حالات میں مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں اور مذاکرات سے پہلے حکومت کو اعتماد سازی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

موجودہ صورتحال پر دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی کوششوں کو اچانک تبدیل نہیں کیا جا سکتا اس لیے مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اگر حالات بدستور یوں ہی رہتے ہیں تو پھر اس کے بعد حکومت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کر دینی چاہیے۔

انھوں نے صوبائی حکومت کے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج واپس بلانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو علاقے میں امن کی بحالی کے لیے فوج کو ابھی رکھنا چاہیے اور مستقل امن کے لیے فوج کو صحیح معنوں میں استعمال کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اب تک خود پیر جما نہیں پائی اور فوج کو واپس بھیج کر اپنے لیے مسائل پیدا کرے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں سے مذاکرات کی کوششیں کوئی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹو کا وہ پرپیچ راستہ ہے جہاں ہر سمت سے مسائل کے نشتر مذاکرات کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔