طالبان نے آٹھ مغوی اہلکار رہا کر دیے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک سال پہلے اغواء ہونے والے واپڈا کے آٹھ اہلکاروں کو گورنر خیبر پختونخوا اور ایک قبائلی جرگے کی کوششوں سے آزاد کروا لیا گیا ہے۔
طالبان نے گزشتہ سال اگست میں گومل زام ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے آٹھ اہلکاروں کو اغواء کیا تھا۔
<link type="page"><caption> گومل زام ڈیم کا عملہ اغواء</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120816_engineers_kidnapping_waziristan_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
گورنر ہاؤس کے ایک ترجمان نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ گورنر خیبر پختونخوا انجینئیر شوکت اللہ اور وزیر قبیلے کے ایک جرگے کی کوششوں کے نتیجے میں طالبان نے گومل زام ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے واپڈا کے تمام مغوی افراد کو رہا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان نے سنیچر کو جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سرحدی پہاڑی علاقے ببوڑ کے مقام پر مغوی اہلکاروں کو قبائلی رسم و رواج کے تحت ایک جرگے کے حوالے کیا اور بعد میں رہا ہونے والے افراد اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہوگئے۔
طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کو بغیر کسی شرط یا تاوان کے آزاد کیا گیا ہے۔
رہا کیے جانے والے اہلکاروں میں ڈیم کے ایس ڈی او، دو سب انجینیئرز، ایک مکینکل فٹر، ڈرائیور، باورچی اور ایک، سینیٹری ورکر شامل ہے۔
گزشتہ سال اگست میں جنوبی وزیرستان میں زیرِ تعمیر گومل زام ڈیم کے سات انجینیئرز اور ملازمین کے علاوہ ایک فوجی کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا تھا اور ان اہلکاروں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ابتداء میں ان سے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گومل زام ڈیم جنوبی وزیرستان ایجنسی میں کھجوری کچھ کے مقام پر دریائے گومل پر تعمیر کیا گیا ہے۔اس ڈیم کی تعمیر پر کام کرنے والے تین چینی انجینیئروں کو سنہ دو ہزار چار میں نامعلوم شدت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا جن میں سے ایک کو شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا تھا۔
چین کی کمپنی نے اس واقعے کے بعد تعمیر کا کام روک دیا تھا اور بعد میں حکومت پاکستان کی یقین دہانیوں اور فوج کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے پر کام شروع کیا گیا تھا۔
نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت کی طرف سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے کے اعلان کے بعد سے فریقین نے ’اعتمادسازی‘ کے لیے قیدیوں کے تبادلے کا آغاز کر دیا ہے۔
بعض قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ گومل زام ڈیم کے اہلکاروں کی رہائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سے پہلے چھ طالبان قیدیوں کو بھی مختلف جیلوں سے رہا کیا گیا تھا جس کی بعد میں شدت پسندوں نے بھی تصدیق کی تھی تاہم پاکستان کی فوج اور دیگر سرکاری ذرائع طالبان قیدیوں کی رہائی یا تبادلے کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔







