دیر: سرحدی چیک پوسٹ پر حملہ، افغان ناظم الامور سے احتجاج

پاکستانی بحریہ کا ایک ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستانی بحریہ کا ایک ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ کے روز کلفٹن کے ساحل پر 20 افراد سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد لاپتہ بھی ہیں جن کی تلاش کی جا رہی ہے۔ امدادی اور تلاش کی کارروائیوں میں بحریہ کے ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق یہ واقعہ کلفٹن کے علاقے میں سی ویو کے ساحل کے قریب پیش آیا ہے، جہاں آج مزید چھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

اس سے قبل کراچی کے کمشنر شعیب احمد صدیقی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سمندر سے نکالی گئی کچھ لاشوں کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر پہنچا دیا گیا ہے جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

کراچی میں عید کے دوسرے روز ہزاروں افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سمندر کے ساحل پر سیر و تفریح کے لیے آئے تھے۔

یہ ہلاکتیں اس کے باوجود پیش آئیں کہ شہر کی انتظامیہ نے سمندری لہروں میں طغیانی کے باعث ساحل پر سیکشن 144 کے تحت پانی میں اترنے یا تیراکی کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔

اس کے علاوہ کراچی کے کمشنر نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سمندر میں نہ اتریں کیونکہ لہروں میں شدت کی وجہ سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔