جنوبی وزیرستان میں جھڑپ، ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک

پاکستان کی فوج نے گذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جو اب تک جاری ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فوج نے گذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جو اب تک جاری ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار اور تین شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

اس جھڑپ میں شدت پسندوں کی ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھڑپ جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ کے علاقے آسمان پنگا میں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق یہ جھڑپ جمعے کی صبح آٹھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک جاری رہی۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی دو چوکیوں کو گھیرے میں لے کر فائرنگ شروع کر دی جس پر سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔

اس جھڑپ میں ذرائع کے مطابق ایک سکیورٹی اہلکار اور تین زخمی ہوئے جبکہ شدت پسندوں کی ہلاکتوں کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ میں کم از کم تین شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس میں دس شدت پسند مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو کمانڈر بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی فوج نے گذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جو اب تک جاری ہے اور اس دوران فوج نے ایجنسی کے زیادہ تر حصے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے کچھ عرصے بعد خیبر ایجنسی میں بھی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

فوج کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ تاہم سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ ماہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ شمالی وزیرستان میں شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب ایک منصوبے کے تحت کامیابی سے جاری ہے اور فوج اسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔