رحمت اللہ علیہ کی کھونٹی
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

،تصویر کا ذریعہThinkstock
نواز الدین آخر کب تک ؟
( تاریخِ اشاعت: دس اگست 2015 )
اگر اس ملک کو موجودہ حالت تک پہنچانے والے پانچ لوگوں کی فہرست بنائی جائے تو نواز الدین اس فہرست میں بھی اول نمبر پر ہوگا۔ جانے اس نے اپنی کس محرومی کا انتقام ہم سب سے لیا۔ بھیس بدلنے میں اس کا جواب نہیں۔ چہرے پر سجی دائمی مسکراہٹ ہی دراصل اس کا خفیہ ہتھیار ہے مگر بہت کم لوگ واقف ہیں کہ اس نرم خو چہرے کے پیچھے کس قدر آہنی سفاکی پوشیدہ ہے۔
اڑتے پرندے کے پر تو بہت سے خرانٹ گن لیتے ہیں مگر نواز الدین تو دور سے پھڑپھراہٹ سن کر ہی جان جاتا ہے کہ اب کون سا پرندہ اس کے دام میں آنے والا ہے۔
کیا حزبِ اختلاف کیا حزبِ اقتدار، ہر جماعت نواز الدین کے گن گاتی ہے اور کیوں نہ گائے نواز الدین ہر جائز نا جائز کام ایسی صفائی سے کرتا ہے کہ آج تک پکڑائی نہیں دی۔ سلطانہ ڈاکو کی طرح ہرایک کا حصہ وقت پر اور باقاعدگی سے پہنچاتا ہے۔
بدلے میں کھلی اجازت ہے کہ جس شے پر ہاتھ رکھے وہ اسی کی ہوئی۔
پورا ملک اس کے لیے حلوائی کی دکان ہے۔ کون نہیں جانتا کہ جس ایمان دار افسر کا ٹرانسفر مقصود ہو نواز الدین کے لیے بس ابرو کو جنبش دینا کافی ہے۔ کون سا جج ہے جس سے وہ رات گئے ملاقات نہ کر سکے۔ کون سا وزیر ہے جو نواز الدین کی فون کال سوتے میں بھی اٹینڈ نہ کرے۔ کون سا ایسا میڈیا مالک ہے جس کی فائل اس نے نہ کھولی ہوئی ہو۔ کون سی ایسی رضیہ ہے جسے نواز الدین نہ جانتا ہو۔گویا یہ ملک نہ ہوا نواز الدین کی لونڈی ہوئی۔
بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے۔
لیکن آج بھی کچھ لوگ (اس خادم سمیت) ہیں جنھیں نواز الدین نہیں خرید پایا۔ اس نے بارہا مجھ جیسوں کو ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا لیکن اللہ تعالی نے مجھے اتنی جرات جانے کیسے عطا کردی کہ میں نے ہر بار ملنے سے انکار کردیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کئی محبِ وطن لوگ ہیں جن کا کریئر اور مستقبل نواز الدین کی منتقم مزاج طبیعت نے برباد کردیا مگر وہ ہر طرح کا خطرہ مول لے کر اس کے جرائم کا پردہ چاک کرنے کے درپے ہیں (اس خادم سمیت)۔ یہی تو وہ دیوانے ہیں جن کے طفیل اس مملکتِ خداداد کو نواز الدین اور اس کے زرخرید حواری اب تک پورا نہیں نگل پائے۔
یقیناً نواز الدین جیسے لوگوں کے سامنے چٹان بن کے کھڑے رہنا اور اس کے کرتوتوں کو جان و مال و عزت کا خطرہ مول لیتے ہوئے سامنے لاتے رہنا فی زمانہ ہمارے بہت سے دنیا پرست دوستوں کو گھاٹے کا سودا لگتا ہے۔
مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ہر تاریکی کے بعد روشنی کی کرن ضرور نمودار ہوتی ہے۔
ہر فرعون کے لیے ایک موسی ضرور پیدا ہوتا ہے۔ یہ ملک اور سماج ایک دن نواز الدین اور اس کے کاسہ برداروں سے مکمل نجات پائے گا اور پھر نئی صبح طلوع ہوگی۔ انشااللہ ۔۔
آہ نواز الدین شہید !
تاریخِ اشاعت: 19 اگست 2015
جب سے میں نے خبر سنی ہے کہ شقی القلب قاتلوں نے دن دھاڑے نواز الدین صاحب کو منکہ چوک پر گولیاں مار کر شہید کردیا تب سے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ روؤں، گریباں چاک کروں کہ اس بدنصیب قوم کی یتیمی پر ماتم کروں جس کے نام نہاد حکمراں نواز الدین جیسے عظیم سپوت کی بھی حفاظت نہ کرسکے۔
نواز صاحب کو اللہ تعالی نے بے پناہ دنیاوی دولت سے نواز مگر انھوں نے اللہ تعالی کی امانت سمجھتے ہوئے اسے خلقِ خدا پر بے طرح لٹایا۔ سانحے کی اس گھڑی میں یہ جتاتے بالکل اچھا نہیں لگ رہا کہ میں ان چند مٹھی بھر خوش قسمتوں میں شامل ہوں جو پچھلے 20 برس سے نواز الدین شہید کو ہتھیلی کی لکیروں کی طرح جانتے تھے۔
فراغ دل اتنے کہ اگر میں نے کبھی ان کے خلاف کچھ الٹا سیدھا لکھ بھی دیا تو اگلی ملاقات میں ایک شوخ مسکراہٹ کے ساتھ آنکھ دباتے ہوئے فرماتے ’بیٹے تجھ سے کوئی شکوہ نہیں میں تیری ملازمتی مجبوریوں کو اچھی طرح سمجھتا ہوں ’اور پھر بات بدل کر ملکی مسائل پر آ جاتے۔‘
کنفیوشسس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دن میں لالٹین لے کر گھومتا تھا۔ کسی نے پوچھا کیا تلاش کر رہے ہو؟
کنفیوشس نے کہا ایسا مثالی حکمراں جو چین کی نیا پار لگا دے۔
سب ہی کو اللہ کو جان دینی ہے اور میں حلفیہ کہتا ہوں کہ نواز الدین علیہہ رحمتہ پاکستان کے کنفیوشس تھے جنھوں نے اپنی زندگی ایک اچھے حکمران کی تلاش میں لگا دی۔ وہ سیاست دانوں سے فریب پر فریب کھاتے چلے گئے، اسٹیبلمشنٹ کی محسن دشنی کے کچوکے سہتے رہے مگر اف تک نہ کی اور یہ داغ سینے میں چھپائے چلے گئے۔
میرے نزدیک کسی بھی شخص کا باعمل مسلمان ہونا کوئی قابلِ فخر بات نہیں بلکہ باعمل ہونا تو ہر مسلمان کا فرضِ عین ہے۔ بات تب ہے کہ کوئی انسان حقوق العباد کے باب میں کتنا پورا اترتا ہے۔ اس معاملے میں نواز الدین صاحب کا مثالیہ ملنا مشکل ہے۔ وہ کسی بھی ضرورت مند کی مدد کے لیے دن رات کی پرواہ کیے بغیر کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے بھلے نماز ہی قضا ہوجائے۔ ایسے موقعوں پر اکثر ہنستے ہوئے کہتے اللہ تعالی کو تو منا لوں گا لیکن اللہ کے بندے کو کیسے ناراض کروں؟
یقیناً نواز الدین شہید میں ہر انسان کی طرح بشری کمزوریاں بھی رہی ہوں گی مگر ان کی قد آور شخصیت کے روبرو معمولی بشری کمزوریوں کا تذکرہ سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے۔ کاش اس مظلوم ملک کو نواز الدین شہید جیسے پانچ لوگ بھی میسر آجاتے تو کایا پلٹ جاتی۔
جب سے ان کی ناوقت شہادت کی جانکاہ خبر ملی ہے تب سے سوچ رہا ہوں کہ ایسے فرشتہِ صفت کا آخر کون جانی دشمن ہو سکتا ہے کہ جس نے اپنا سب کچھ اس وطن اور اس کے لوگوں کے لیے وقف کردیا۔
پھر خیال آیا کہ ابلیس بھی تو یہیں کہیں ہمارے درمیان ہی ہے اور نواز الدین جیسے لوگ قلبِ ابلیس میں کانٹے کی طرح کھٹکنے کے لیے کافی ہیں۔ ہوسکتا ہے حکومت ایک دن اس محسنِ قوم کے قاتل پکڑ لے مگر نواز الدین کی رخصتی سے جو نقصان ہوا اس کا مداوا کون کرے۔
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا







