’ہر طرف پانی، لیکن گھربار نہیں چھوڑ سکتے‘

- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لیہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایسے بھی افراد ہیں جن کے گھر یا بستی کے اردگرد پانی اونچا ہو کر ان کی دہلیز تک پہنچ گیا ہے مگر وہ اپنے گھر کو چھوڑ نہیں رہے۔
جب ایک ایسے خاندان کے فرد سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کو اس لیے نہیں چھوڑ رہے کیونکہ رات کو چوری کا خطرہ رہتا ہے اور ساتھ ہی ان میں سے چند کا یہ کہنا تھا کہ انھیں ایسی جگہ نہیں بتائی گئی جہاں وہ اپنے مال مویشی اور سامان لے جائیں۔
مقامی سکول کے ریٹائرڈ استاد فیاض جکھڑ نے بتایا کہ ’ان علاقوں کے لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ پانی اونچا ہو رہا ہے مگر ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ انھیں تب بتایا جائے جب پانی آٹھ لاکھ کیوسک سے اونچا ہو جائے۔‘
اس کی وجہ بتاتے ہوئے امدادی کارروائیوں میں شامل ایک اہلکار نے بتایا کہ سنہ 2010 کے سیلاب کے بعد کئی مقامی لوگوں نے اپنے گھر اتنے اونچے تعمیر کیے ہیں کہ آٹھ لاکھ کیوسک تک کے سیلابی ریلے سے وہ متاثر نہیں ہوتے مگر اس سے اونچے ریلے سے انھیں اپنے گھر اور مال مویشی کو بچانا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے علاوہ اگر متاثرین کو دیکھیں تو ان میں سے دیہاڑی دار ملازمین، چھوٹے مزارعین اور زمینداروں کی اکثریت ہے جن کے پاس مال مویشی ہیں۔
اس کی مثال ہمیں اس وقت ملی جب ہم لیہ شہر سے دریائے سند کے جکھڑ بند کے جانب جا رہے تھے تو ہمیں دو مقامات پر مقامی افراد کشتیوں پر دودھ سے بھرے ڈرم لا رہے تھے جنھیں دودھ لے جانے والے کنٹینروں میں بھرا جا رہا تھا۔
وہیں ہمیں رمضان ملے جن کا گھر سمرا کے علاقے میں تھا۔ وہ بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین کے دیرینہ سامع تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گھروں میں ان کے بیٹے پہرہ دیتے ہیں اور وہ بند پر موجود ہیں جہاں ان کے کچھ جانور ہیں کیونکہ ان کے گھر پانی سے گھر چکے ہیں۔
ہر سال آنے والے سیلاب کے نتیجے میں مقامی آبادی اور خصوصاً دریا کے کنارے بسنے والی آبادی کے مکینوں کے پاس وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں جن کے حل کے لیے انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ انھیں کس کے پاس جانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







