عمران فاروق قتل کیس، دو ملزمان ایف آئی اے کے حوالے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو اس مقدمے کی تحققیات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے۔
اس سے پہلے مذکورہ دونوں افراد فرنٹئیر کور کی تحویل میں تھے۔
<link type="page"><caption> متحدہ پر الزامات، مقدمات، تحقیقات اور مشکلات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/mqm_investigation_fz" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ان دونوں افراد کو تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت ایف ائی اے کی تحویل میں دیا گیا ہے جو 90 روز تک ملزمان کو اپنی تویل میں رکھے گے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150618_afghan_border_arrests_ra" platform="highweb"/></link>
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ملزمان سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر انعام غنی کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحققیاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
گرفتار ہونے والے شخص محسن علی پر الزام ہے کہ وہ ان دو افراد میں شامل تھے جنھیں ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے لندن بھجوایا گیا تھا۔
مذکورہ ملزم کو برطانیہ بھیجنے کے انتظامات معظم علی نامی ملزم نے کیے تھے جو اس وقت پاکستان کے قانون نافد کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔
معظم علی سے تفتیش کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اہلکار کے مطابق پاکستان کے دورے پر آنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے اس تفتیشی ٹیم سے ملاقات کی تھی جنہوں نے معظم علی سے تفتیش کی تھی اس کے علاوہ اس ٹیم کو تفتیش میں لکھی جانے والی دستاویز بھی فراہم کی گئی ہیں۔
اہلکار کے مطابق سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بدھ سے ملزم معظم علی سے تفتیش کا سلسلہ شروع کرے گی۔
اہلکار کے مطابق محسن علی اور خالد شمیم سے تفتیش کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستانی حکومت کو خط لکھے گی جس کے بارے میں امکان یہی ہے کہ پاکستانی حکومت اس کا مثبت جواب دے گی۔







