’اراکینِ پارلیمان نے ٹویٹ کے بعد ہی فوجی عدالتوں کی حمایت کی‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ارکانِ پارلیمان نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں فوجی ترجمان کا پیغام آنے کے بعد ہی ووٹ دیا تھا۔
انھوں نے یہ بات 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کہی۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17رکنی فل بینچ نے جمعرات کو ان درخواستوں کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وکلا اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی عدالتوں میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ کی ٹویٹ کے بعد ارکان پارلیمنٹ نے 21ویں آئینی ترمیم سے متعلق قانون سازی میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔
اس پر بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائض عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت کو پارٹی سربراہان کی جمہوریت میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی سربراہان بہت زیادہ خود مختار ہو گئے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت اراکین پارلیمنٹ کو اپنے پارٹی کے سربراہان کی ہدایت ماننے کا پابند بنایا گیا ہے اور پارٹی سربراہان کو بااختیار بنانے کی وجہ سے پارلیمانی جمہوریت متاثر ہوئی ہے۔
جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ کے پاس بڑا آسان راستہ ابھی بھی موجود ہے کہ اگر وہ پارٹی سربراہ کی ہدایت سے اتفاق نہیں کرتے تو مستعفی ہو جائیں اور ایسا کرنے سے دو تہائی اکثریت نہیں رہے گی اور نیا الیکشن کروانا پڑے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC urdu
عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’اب تو ہم یہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ فوجی عدالتیں بھی آئینی ہوگئی ہیں۔‘
اس پر چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار کونسل بھی فوجی عدالتوں کے غیر آئینی ہونے پر متفق ہے لیکن اس بارے میں اُن کی بنیاد اور دلائل الگ ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو ایسی تمام قانون سازی کو کالعدم دینے کا اختیار حاصل ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہو۔
اُنھوں نے کہا کہ جنگل کے قانون کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور عدالت اس میں مداخلت کرے؟
اُنھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے قانون سازوں کے بارے میں کبھی بدنیتی کی بات نہیں کی۔
اس سے پہلے بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام کی صورت میں عدل کا ایک متوازی نظام قائم کر دیا گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندی کے مقدمات کے فوری فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ داری انتظامیہ کی بجائے عدلیہ پر ڈال دی گئی ہے۔
ان درخواستوں کی سماعت 22 جون تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔







