ہندوؤں کی شادی کا بل، معاملہ پھر کھٹائی میں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں آباد ہندوؤں کی شادیوں کے متعلق قانون سازی کے لیے حکومت کے تجویز کردہ بل کی ایک متنازع شق نے اس معاملے کو پھر سے کھٹائی میں ڈال دیا ہے۔
وزارت قانون، انصاف و انسانی حقوق کی جانب سے تیار کیے گئے مسودے کی ایک شق یہ کہتی ہے کہ اگر میاں یا بیوی میں سے کوئی بھی اپنا مذہب بدل لے تو شادی منسوخ ہوجائے گی۔
بعض ہندو ارکان پارلیمان نے اس شق پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لالچند مالھی کہتے ہیں کہ ’خطرہ یہ ہے کہ اس سے تبدیلی مذہب کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور خاص طور پر صوبہ سندھ میں جہاں ہندوؤں کی اکثریت آباد ہے، مذہب کی تبدیلی بہت بڑا مسئلہ ہے اور جبری طور پر ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرانے کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں جس پر ہندو برادری پہلے ہی سراپا احتجاج ہے۔
انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ’اس بل کی منظوری سے ناچاقی کی صورت میں میاں کو بیوی سے یا بیوی کو میاں سے جان چھڑانے کے لیے اور کچھ نہیں کرنا۔ کسی بھی جگہ سے ایک جھوٹا سرٹیفیکیٹ لینا ہے کہ اس کا مذہب تبدیل ہوگیا ہے اور اُس سے اس کی اپنی بیوی اور اولاد کی ساری ذمہ داریاں ختم ہوگئی ہیں اور یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہوگی۔‘
لالچند مالھی نے کہا کہ اگر کوئی مذہب تبدیل کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے مگر مذہب بدلنے سے وہ اپنی بیوی اور بچوں کی ذمہ داریوں سے جان نہیں چھڑا سکتا۔
’میری ذاتی رائے یہ ہے کہ قانون مذہب بدلنے والے کو پابند بنائے کہ تبدیلی مذہب سے پہلے وہ اپنے سارے فرائض پورے کرے اور عدالت کے ذریعے کرے۔ جس میں بیوی بچوں کی ذمہ داری اور ان کا خرچہ شامل ہو۔ اس کے بعد وہ مذہب بدلے یا علحیدگی اختیار کرے یہ ایک بالغ کا انفرادی حق ہے۔‘
پاکستان میں ہندوؤں کی شادی کے متعلق کوئی قانون موجود نہیں جس کے باعث ہندوؤں کو شادی کی رجسٹریشن اور شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی بنیادی شناختی دستاویز کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ہندو بیواؤں کو جائداد میں حصہ نہیں ملتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
ہندو تنظیمیں شادی کے متعلق قانون سازی کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں جبکہ سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر کئی بار حکومت کو احکامات جاری کر چکی ہے۔ اس سال جنوری میں بھی سپریم کورٹ نے مجوزہ قانون کے مسودے کو وفاقی کابینہ سے دو ہفتوں میں منظور کرانے کی ہدایت کی تھی مگر یہ بل بدستور قومی اسمبلی میں زیرِ التوا ہے۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ قانون و انصاف نے ان کے تجویز کردہ بل میں کچھ ترامیم کی ہیں جو متنازع ہیں اور وہ انہیں ختم کرائیں گے۔
بل کی منظوری میں تاخیر پر ان کا کہنا تھا کہ آئین کی اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد اقلیتیں صوبائی معاملہ بن گیا ہے اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کا اطلاق صرف اسلام آباد پر ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے متعلق قائمہ کمیٹی نے پندرہ مئی کو چاروں صوبوں کی حکومتوں کو لکھا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت اپنی اسمبلیوں سے قراردادیں منظور کراکے پارلیمان کو اختیار دیں کہ وہ پورے ملک کے ہندوؤں کے لیے ایک قانون بنا سکے اور ابھی اس پر صوبوں کے جواب کا انتظار ہے۔
حکومت کے مجوزہ بل میں ایک اور شق بھی شامل ہے کہ اگر ازدواجی بندھن کے بعد میاں یا بیوی میں سے کوئی کسی دوسرے کے ساتھ قصداً جنسی تعلقات رکھے تو شادی منسوخ ہو جائے گی۔
لالچند مالھی کا کہنا ہے کہ اس شق کی بھی اس بل میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ’کیونکہ یہ انفرادی مسائل ہیں اور نہ یہ عدالت میں ثابت ہوتے ہیں۔ یہ خوامخواہ شہ دینے کی بات ہوگی کہ ایک دوسرے سے علحیدگی کے لیے اس طرح کے الزامات لگائے جائیں اور اس سے لوگوں کو ذاتی زندگی میں بہت مسائل پیدا ہوں گے۔‘







