’ہندو خواتین کی وراثت کا 85 سالہ پرانا قانون‘

لاہور ہائی کورٹ میں ایک ہندو خاتون نے اس 85 سالہ قانون کو ختم کرنے کی درخواست دائر کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنلاہور ہائی کورٹ میں ایک ہندو خاتون نے اس 85 سالہ قانون کو ختم کرنے کی درخواست دائر کی ہے
    • مصنف, عدیل اکرم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور ہائی کورٹ میں ایک کیس کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں ہندو خواتین کو وارثت میں حصہ نہ دینے کا 85 برس پرانا قانون رائج ہے جو کے ہندوستان میں بھی متروک ہو چکا ہے۔

یہ انکشاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک ہندو خاتون کی درخواست پر سماعت کے دوران ہوا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے درخواست پر سماعت کے بعد وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

کارروائی کے دوران ہندو خاتون سونیا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہندو خواتین کو وارثت میں حصہ نہ دینے کا قانون قیام پاکستان سے پہلے کا ہے جو کہ آج بھی ملک میں رائج ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔

وکیل کے مطابق ہندو خواتین کو وارثت میں حصہ نہ دینے کا قانون ہندوستان میں 1956 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے استعفسار کیا کہ کیا عدالت کسی ایکٹ کو کالعدم قرار دے سکتی ہے؟

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہندو خواتین کو وارثت میں حصہ دینے کا 1929 کا ایکٹ ریاستی آئین کے منافی ہے اس لیے عدالت اس کی منسوخی کے احکامات دے سکتی ہے۔

عدالتی استفسار پر وکیل نے وضاحت کی کہ ہندوؤں کی پارلیمان میں مناسب نمائندگی نہیں ہے اس لیے ہندو برداری اس معاملے پر پارلیمان سے رجوع نہیں کرسکتی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملے میں عدالتی معاون مقرر کیے جائیں گے اور ہندو رہنماؤں سے بھی رائے لی جائے گی۔