کیا دوبارہ بلدیاتی انتخابات مسئلے کا حل ہیں؟

انتخابات میں متعدد پرتشدد واقعات میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانتخابات میں متعدد پرتشدد واقعات میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں 30 مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سنگین نوعیت کے دھاندلی کے الزامات اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کے بعد اب بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حالات سیاسی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت پارٹی کے تمام اہم عہدیدار اور صوبائی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔

عمران خان تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ وہ صوبے میں دوبارہ فوج کی نگرانی میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کروانے کو تیار ہیں۔

تاہم دوسری طرف سہ فریقی اتحاد پر مشتمل صوبے کی حزب اختلاف کی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) اور پیپلزپارٹی نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

سنیچر کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی سے تعلق رکھنے والے سہ فریقی اتحاد کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو 10 جون کو صوبہ بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی جائے گا اور حکومت کے خلاف جلسے جلوس منعقد کیے جائیں گے۔

انھوں نے دھمکی دی کہ احتجاج کے اگلے مرحلے میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے سہ فریقی اتحاد کے ایک رہنما عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت دھاندلی کے مرتکب ہوئی ہے اور وہ خود بھی اس کو بات کو مانتی ہے ہیں لہذا انہیں مستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔

ان کے بقول ’ ہم موجودہ بدعنوان تحریک انصاف حکومت کے تحت دوبارہ انتخابات مانتے ہی نہیں کیونکہ انھوں نے پہلے بھی دھاندلی کی اور آئندہ بھی کریں گے، ہاں اگر نگران حکومت کے تحت بلدیاتی چناؤ ہوتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں لیکن موجودہ حکومت میں نہیں۔‘

دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے جہاں ایک طرف صوبہ بھر میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی ہے تو وہیں دوسری طرف یہ جماعتیں مختلف اضلاع میں مقامی حکومتیں بنانے کےلیے جوڑ توڑ میں بھی مصروف ہے ۔

سہ فریقی اتحاد میں شامل جماعتوں اے این پی، جے یوائی ف اور پیپلزپارٹی نے صوبے میں تحریک انصاف کے خلاف انتخابات میں مشترکہ طورپر ایک پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا اور اب مختلف اضلاع میں حکومتیں بنانے کے عمل میں بھی ساتھ ساتھ ہیں۔

بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کو دیئے گئے عجیب و غریب انتخابی نشانات پر بھی شدید تنقید کی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنبلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کو دیئے گئے عجیب و غریب انتخابی نشانات پر بھی شدید تنقید کی گئی تھی

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات سے نکلنے کا حل کیا ہے ؟ کیا دوبارہ انتخابات تمام مسائل کا حل ہیں یا دھاندلی کی تحقیقات ایک بااختیار کمیشن سے کروانے سے سیاسی جماعتیں مطمئن ہو سکتی ہیں؟

سینیئر صحافی اور مصنف عقیل یوسف زئی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کی کال دے کر ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے جس سے بظاہر بحران کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔

تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی نے مزید کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی مکمل ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی کیونکہ چناؤ تو الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوا اور تحریک انصاف کے کئی سرکردہ رہنماؤں کے بیٹے بھائی اور عزیز رشتہ دار بھی انتخابات ہار چکے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی ہے ۔

تاہم انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنے وزیر مالیات علی امین گنڈا پور سمیت ان تمام پولیس افسران اور الیکشن عملے کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنی ہوگی جو دھاندلی میں ملوث رہے ہیں اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر یقینی طورپر حکومت کو خود کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔

تاہم بعض مبصرین صوبائی حکومت اور عمران خان کی طرف سے دوبارہ انتخابات کروانے کی پیش کش کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کوئی بچوں کا کھیل نہیں جو ہر ایک ڈیڑھ ہفتے کے بعد دوبارہ کروائے جائیں۔