وزیرِاعلیٰ سندھ کو پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم

عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کو ایک موقع دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعدالت نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کو ایک موقع دیا گیا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو عدالت کے محاصرے میں ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے محاصرے کا واقعہ گذشتہ ہفتے اس وقت پیش آیا جب سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پیشی کے موقع پر سادہ لباس میں ملبوس نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے عدالت کے احاطے کو گھیرے میں لے کر ان کے محافظوں اور صحافیوں پر تشدد کیا تھا۔

اس سلسلے میں عدالتِ عالیہ نے سندھ پولیس کے سربراہ آئی جی غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کے خلاف توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔

گذشتہ سماعت پر ان دونوں افسران کے معافی نامے بھی مسترد کر دیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ ان پر 28 مئی کو فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

جمعرات کو جب اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تو آئی جی سندھ اور دیگر افسران جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سعید الدین ناصر پر مشتمل ڈویژن بینچ کے سامنے پیش ہوئے اور دوبارہ غیر مشروط معافی مانگی۔

اس پر عدالت نے چیف سکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کر کے انھیں عدالت کے محاصرے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کا عدالتی حکم پہنچائیں۔

عدالتِ عالیہ نے ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو بھی توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا
،تصویر کا کیپشنعدالتِ عالیہ نے ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو بھی توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا

عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کو ایک موقع دیا گیا ہے۔

اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتح ملک نے موقف اختیار کیا کہ ان افسران کا روزانہ میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے اور اس قسم کے واقعات سے جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ عدالت کو اس لیے ایکشن لینا پڑا کیونکہ محاصرہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

انھوں نے ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ ’وزیرِ اعلی کے کس نے ہاتھ باندھ رکھے تھے کہ انھوں نے محاصرہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی نہیں کی اور جو عدالت کے ساتھ کیا گیا اگر وزیرِاعلیٰ کے ساتھ کیا جاتا تو وہ کیا کرتے۔‘

اس پر ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلی نے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور معاملہ چونکہ عدالت میں زیرِ سماعت تھا اس لیے کارروائی نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ آئی جی غلام حیدر جمالی نے عدالت کا محاصرہ کرنے والے ایس ایچ او پریڈی اور ایس ایس یو کے 12 اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔